’فوج اور طالبان کا آمنے سامنے بیٹھنا لازمی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاور میں گزشتہ چند دن کے دوران جماعتِ اسلامی کا یہ دوسرا اجتماع ہے

پاکستان میں حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان رابط کمیٹی کے ممبران نے کہا ہے کہ جب تک طالبان اور فوج کے درمیان براہ راست بات چیت نہیں ہوتی اس وقت تک یہ عمل بامقصد نتیجے کی جانب نہیں بڑھ سکتا۔

جمعرات کو پشاور میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام قبائل امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے طالبان رابطہ کار کمیٹی کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولاناسمیع الحق نے کہا کہ غاروں میں بیٹھے ہوئے طالبان سے ان کا رابطہ ہو جاتا ہے مگر اسلام آباد والوں سے رابطہ نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ اگرحکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں تو پھر وہ بھی اس عمل سے علیحدہ ہو جائیں گے تاہم وہ ملک و قوم کے فائدے کی خاطر اس عمل میں شامل ہوئے تھے۔

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ اگر جنگ سے کامیابی ہوتی توامریکہ اور روس جنگ افغانستان میں جنگ جیت جاتے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی صدر اوباما کے خصوصی ایلچی نے بھی گذشتہ روز ملاقات کے دوران مذاکراتی عمل کو سراہا ہے اور ’اگر سارے فساد کی جڑ امریکہ بھی یہ کہہ رہا ہے کہ مذاکرات ہی واحد حل ہے تو پھر دوسرے طریقوں سے مسئلے کوحل کیوں کیا جائے؟‘

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے طالبان رابطہ کار کمیٹی کے رکن اور جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما پروفیسر ابراہیم خان نے کہا کہ چونکہ پاک فوج براہِ راست اس جنگ میں فریق ہے اس لیے اصل فریق کا نقطۂ نظر معلوم کیے بغیر مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انھوں نے واضح کیا کہ اصل مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتے جب تک فوج اور طالبان ایک میز پر نہیں بیٹھ جاتے۔

جماعتِ اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے کہا کہ امن کی چابی اسلام آباد میں ہے اور جس دن حکومت نے کھیل ختم کرنا چاہا، کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ آئین شکنی کرنے والے قبائلی علاقوں میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ناکامی بھی پاکستان ہی کی ناکامی ہے۔ سراج الحق نے بتایا کہ پاکستان کی حفاظت کے لیے ایٹم بم اتناضروری نہیں جتنا کہ قبائل کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے۔

انھوں نے وزیراعظم نوازشریف سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کامسئلہ حل کیا جائے، ان سے کیےگئے وعدے پورے کیے جائیں جب کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر بھی توجہ دی جائے کیونکہ اس سے پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ پشاور میں گذشتہ چند دن کے دوران جماعتِ اسلامی کا یہ دوسرا اجتماع ہے۔ اس سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کی امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تھی۔

اسی بارے میں