کارکنوں کی ہلاکت پر ایم کیو ایم کا یومِ سوگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ کہ اس کے 25 سے زیادہ کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتیں ہوئی ہیں

متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ کراچی کے مضافاتی علاقے میمن گوٹھ سے ملنے والی چار تشدد زدہ لاشیں ان کے کارکنوں کی ہے جنھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا تھا۔

ایم کیو ایم نے اپنے کارکنوں کی ہلاکت پر جمعے کو صوبے میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

میمن گوٹھ پولیس کو ان چار افراد کی لاشیں بدھ کو لنک روڈ پر ویران علاقے سے ملی تھیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مقتولین کے نام سمیر، فیضان، سلمان مشتاق اور علی حیدر ہیں، جنہیں 13 اپریل کو سکیم 33 نامی رہائشی منصوبے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا تھا اور ان تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رہنما مقبول صدیقی نےجمعرات کو پریس کانفرنس میں کہ 13 اپریل کو ان کے نو کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے چھ لاپتہ رہے اور بعد میں چار کی لاشیں ملیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اب بھی دو کارکنوں زوہیب اور ضیاالرحمان کی زندگیوں کے بارے میں تشویش کا شکار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یومِ سوگ کے اعلان کے فوراً بعد کراچی میں مختلف مقامات پر دکانیں اور بازار بند ہونا شروع ہوگئے

مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’کل ہم سندھ بھر میں سوگ منائیں گے‘۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور کسی طرح مشتعل نہ ہوں۔

تاہم یومِ سوگ کے اعلان کے فوراً بعد کراچی میں مختلف مقامات پر دکانیں اور بازار بند ہونا شروع ہوگئے اور لیاقت آْباد، ابوالحسن اصفہانی روڈ، آرام باغ سمیت شہر کے کئی علاقوں میں کاروبار بند ہوگیا۔

یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اس سے پہلے یہ الزام عائد کر چکی ہے کہ ان کے 25 سے زائد کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکت کی گئی ہے جبکہ 45 سے زائد کارکن تاحال لاپتہ ہیں۔

ایم کیو ایم نے گزشتہ دنوں ہی سندھ کی صوبائی حکومت میں بھی شمولیت اختیار کی ہے اور اس وقت صوبائی حکومت ہی کراچی میں جاری آپریشن کر رہی ہے۔

دوسری جانب آئی جی سندھ نے ان چار نوجوانوں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں ایس ایس پی ملیر، ایس ایس پی ایس آئی یو بھی شامل ہوں گے۔

ان چاروں ہلاک شدگان کی لاشیں جمعرات کو سہراب گوٹھ پر واقع ایدھی سرد خانے سے ناظم آباد منتقل کر دی گئی ہیں۔ اس موقعے پر مشتعل نوجوانوں نے پتھراؤ اور فائرنگ بھی کی۔

خیال رہے کہ ان چاروں افراد کی لاشیں جس تھانے کی حدود سے ملی تھیں وہاں اس سے پہلے بھی تشدد شدہ لاشیں ملتی رہی ہیں، جن میں لاپتہ افراد سمیت مختلف مذہبی گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے کارکن شامل تھے۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ جبری گمشدگیوں اور لاشیں پھینکنے کے واقعات کا دائرہ کار خیبر پختونخوا اور سندھ تک پھیل گیا ہے اور تمام لاپتہ افراد کو جبری گمشدگیوں سے تحفظ فراہم کرنے کے بین الاقوامی میثاق کی توثیق کی جائے۔

اسی بارے میں