’بچوں کا ادب پھر مقبول‘

Image caption میلے میں معاشرتی برائیوں کے اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا

پا کستان میں ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی نسل میں علم و ادب سے لگاؤ میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث ملک کا مستقبل زیادہ روشن ہے۔ان ماہرین نےلوگوں میں کتابیں پڑھنے کے رجحان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں جمعے کے روز بچوں کا دو روزہ ادبی جشن یا میلہ شروع ہوا۔ میلے میں ملکی اور بعض غیرملکی اشاعتی اداروں کی جانب قومی اور بین الاقوامی موضوعات پر مختلف ماہرین کی کتابیں فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں۔

میلے کے پہلے دن شدید گرمی کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف سکولوں اور کالجوں کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے علاوہ ادب اور تحریر میں دلچسپی رکھنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

میلے میں ڈرامہ ،میوزک ، پلےگیم، تھیٹر،آرٹس، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے سٹالوں اور کتابوں کی نمائش کے علاوہ چودہ مختلف موضوعات پر بحث ومباحثے بھی ہو رہے ہیں جن میں بچے اور بڑے دلچسپی لے رہے ہیں۔ میلے میں دن بھر میوزک اور ڈرامے کا سلسلہ جاری تھا۔جس میں بچوں نے نہ صرف اپنے خوب جوہر دکھائے بلکہ بچوں پر معاشرتی برائیوں کے اثرات کو بھی اداکاری سے دکھایا جس پر حاضرین کھبی افسردہ اور کبھی لطف اندوز ہوتے رہے۔

بچوں کے موضوعات کی مصنفہ بیلا رضا جمیل نے بتایا کہ پاکستان میں ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جب ملک میں بدامنی اور معاشی ناہمواریوں کے باعث لوگوں کی اکثریت نے ادب اور کتابوں سے منہ موڑ لیا تھا لیکن اسلام آباد میں ایک ماہ کے دوران تیسرے ادبی فیسٹول نے ثابت کردیا ہے کہ اب ایک بار پھرلوگوں میں لکھنے پڑنے کاشوق بڑھ رہا ہے۔

اس میلے میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے مندرہ، کیلاش ، ایبٹ آباد اور گلگت کے علاوہ چاروں صوبوں سے بچے خصوصی طور پر اسلام آباد آئے جن میں بہت سے ایسے بچے بھی ہیں جنہوں نے پہلی بار اسلام آباد دیکھاہے۔

میلے کے بارے میں ملک کے ممتاز کالم نگار اور ماہرتعلیم عباس حسین نے کہا کہ پاکستان کامستقبل ان بچوں کے ہاتھ میں ہے جو اس وقت بھی ملک میں تعلم اور امن کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیسٹول کے انعقاد سے صوبوں میں قربت بڑھتی ہے کیونکہ یہاں نہ صرف چاروں صوبوں کے ادیب اور افسانہ نگار موجود ہیں بلکی کئی ایسے غیرملکی بھی ہیں جنہیں پہلی بار یہاں کے عام لوگوں سے براہ راست ملنے کا موقع ملا ہے۔

اسی بارے میں