بجلی اب صرف بل دینے والوں کو ملے گی:خواجہ آصف

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگلے تین ماہ صارفین کے لیے بہت سخت ہوں گے جس میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگا

پاکستان کے پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بجلی کے بلوں کے نادہندہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے کنکشن کاٹنے کے بعد وصولیوں کی مد میں سوا دو ارب روپے کے قریب واجبات سرکاری خزانے میں جمع کروا دیے گئے ہیں اور اب سے بجلی صرف اُنھی اداروں کو دی جائے گی جو بجلی کا بل ادا کریں گے۔

جمعے کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اُن کی وزارت کی یہ کوشش ہے کہ سرکاری اداروں کے ذمے رواں مالی سال کے واجب الادا بل اس سال جون کے آخر تک وصول کر لیے جائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ نادہندگان کے خلاف بلاتفریق کارروائی جاری رکھی جائے گی اور کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگلے تین ماہ صارفین کے لیے بہت سخت ہوں گے جن کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ مئی، جون اور جولائی میں ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی سے بجلی کی پیداوار میں دو ہزار میگا واٹ تک کمی ہوگی۔

پانی و بجلی کے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گُذشتہ چند روز کے دوران گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے ایئر کنڈیشنر چلنا شروع ہوگئے ہیں جو بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافے کا ایک سبب ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ملک بھر کے شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جو بجلی کا بل ادا نہیں کرتے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت اس ضمن میں دباؤ میں نہیں آئے گی اور صرف اُن صارفین کو بجلی فراہم کی جائے گی جو بجلی کا بل ادا کریں گے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پانی اور بجلی کی وزارت میں ایک کنٹرول روم بنایا جا رہا ہے جس میں ملک بھر میں آٹھ ہزار سے زائد بجلی کے فیڈرز کا ریکارڈ موجود ہوگا جس سے معلوم ہوسکے گا کہ فلاں فیڈر سے صارفین کو کتنی بجلی فراہم کی گئی اور وہاں سے کتنے فیصد صارفین نے بجلی کے بل ادا کیے۔

پانی و بجلی کے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں بجلی کا شاٹ فال 3200 میگاواٹ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ چین کی مدد سے 21600 میگا واٹ کے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ صنعتوں کو بلا تفریق دو شفٹوں میں بجلی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے۔

اسی بارے میں