خیبر پختونخوا:صوبائی وزیر اور مشیر کی برطرفی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سے پہلے بھی خیبر پختوانخوا کی کابینہ میں رد و بدل کیا جا چکا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے صوبائی کابینہ میں شامل ایک وزیر اور وزیراعلیٰ کے مشیر کو ’ناقص کارکردگی‘ کی بنیاد پر ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزیرِ صنعت شوکت یوسف زئی اور وزیراعلیٰ کے مشیر یاسین خلیل کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی جس کی وجہ سے انھیں ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بتایا کہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے پہلے ہی صوبائی وزرا اور مشیروں کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے ہدایت جاری کر رکھی تھی۔

انھوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف میں قائم ہم خیال گروپ نے جب وزرا کی کارکردگی پر انگلی اٹھائی تو عمران خان نے نہ صرف بعض وزرا اور مشیروں کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا بلکہ بعض وزرا کی کارکردگی جانچنے کی ہدایت بھی کر دی تھی۔

انھوں نے کہا کہ شوکت یوسف زئی اور یاسین خلیل کی برطرفی بھی کارکردگی کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے۔

شوکت یوسف زئی اس سے پہلے وزیر صحت کے عہدے پر رہ چکے تھے تاہم صوبائی کابینہ میں رد و بدل کے بعد ان سے صحت کا قلمدان لے لیا گیا اور انھیں صنعت کی وزرات دی گئی تھی۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور عمران خان کے دستِ راست جہانگیر ترین اور شوکت یوسف زئی کے درمیان محکمۂ صحت میں بعض امور پر اختلاف پایا جاتا تھا جس کی وجہ سے صوبائی وزیر ان کے نشانے پر تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ جہانگیر ترین نے محکمۂ صحت میں بعض ٹھیکے من پسند افراد کو دیے تھے جس پر شوکت یوسف زئی نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ان کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطرف صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی کا شمار تحریک انصاف کے اہم صوبائی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

وہ پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں، تاہم وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد انھیں پارٹی عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں