’دہشتگردی کا مرض آنے میں وقت لگا اور جانے میں بھی لگے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لا اینڈ آرڈر ٹھیک کیے بغیر معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ یہ ہماری اولین ترجیح ہے:شہباز شریف

برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے پاکستان کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

لندن میں بی بی سی اردو کے شفیع نقی جامعی سے بات چیت میں امورِ قومی سلامتی کے لیے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو اب ہو رہا ہے پہلے کبھی نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ جس فیصلہ کن انداز میں پچھلے نو ماہ میں نواز شریف کی حکومت نے سکیورٹی معاملات پر کام کیا ہے، پہلے کراچی میں پھر قومی سلامتی پالیسی ہے۔ نیکٹا بن رہی ہے۔ سریع الحرکت فورس بن ر ہی ہے، جوائنٹ انٹیلیجنس آرگنائزیشن بن رہی ہے اور ان تمام سکیورٹی اقدامات سے مجھے امید ہے کہ ہم(دہشت گردی پر )قابو پا لیں گے۔‘

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بھی اس معاملے پر بی بی سی اردو سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی ایک مرض ہے جس کو آنے میں بھی وقت لگا اور اب اس کے جانے میں بھی وقت لگے گا۔‘

شہباز شریف نے تسلیم کیا کہ ’سکیورٹی کے حوالے سے سوالیہ نشان ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ اس میں پنجاب بھی شامل ہے۔ لیکن (یہ ایک) چیلینج ہے جس کو ہم نے قبول کیا ہے لیکن اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اسے ختم کرنے یا اسے شکست دینے کے لیے ہماری کمٹمنٹ ہے یا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند برس میں دہشت گردی سے 40 ہزار پاکستانیوں کی ہلاکت کوئی معمولی بات نہیں اور ’ہم اس بارے میں مکمل طور پر یکسو ہیں کہ لا اینڈ آرڈر ٹھیک کیے بغیر معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ یہ ہماری اولین ترجیح ہے۔‘

اس بارے میں بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل(ر) احسان الحق کا کہنا تھا کہ حکومت نے کافی مثبت اقدامات کیے ہیں اور قومی سلامتی کے اداروں میں اصلاحات سے اچھے نتائج آنے کی امید ہے۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ کہنا کہ ہم زیرو لیول سے شروع کر رہے ہیں میرے خیال میں صحیح نہیں اور اس بارے میں حقائق جاننے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پہلے بھی خفیہ اداروں کی رابطہ کاری اور انسدادِ دہشتگردی کا نظام موجود تھا۔‘

Image caption سکیورٹی اقدامات سے مجھے امید ہے کہ ہم (دہشت گردی پر )قابو پا لیں گے:سرتاج عزیز

انھوں نے کہا کہ ’نائن الیون کے بعد جب ہمیں دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت بھی 2002 میں کچھ اصلاحات کی گئی تھیں اور ایک انسدادِ دہشت گردی کا سینٹر قائم کیا گیا تھا۔ پہلے بھی فوج کے تحت ایک خصوصی ٹاسک فورس بنائی گئی تھی جو ایک کاؤنٹر ٹیررازم فورس تھی۔‘

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اب جب حکومت اس طرح کی فورس کی بات کرتی ہے تو اسے اس فورس کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ سنہ 2007 کے بعد دہشت گردی کے ڈائنامکس میں تبدیلی آئی ہے تو پھر ان اداروں کی بھی ڈائنامکس تبدیل کی جانی چاہییں۔‘

خیال رہے کہ جمعے کو ہی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی صدارت میں راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی ہے جس میں اندرونی اور بیرون سلامتی کے امور پر غور کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں