عالمی بینک پاکستان کو بارہ ارب ڈالر دے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عالمی نے بینک پاکستان میں اقصادی ترقی کے منصوبوں اور پالیسیوں کو بھی سراہا

عالمی بینک نے پاکستان کے لیے بارہ ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے جو ملک میں توانائی، تعلیم اور انتہا پسندی کے خاتمے اور اقتصادی اصلاحات پر خرچ کیا جائےگا۔

یہ بات پاکستن میں عالمی بینک کے سربراہ رشید بن مسعود نے واشنگٹن سے براہ راست ٹیلی کانفرنس کے ذریعے اسلام آباد میں موجود صحافیوں کو بتائی۔

عالمی بینک کے ایگزیکٹِو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ شراکت کی حکمت عملی کے تحت جو پیکج منظور کیا ہے اُس کے تحت سنہ 2015 سے سنہ 2019 تک پاکستان کو 11 ارب ڈالر ملیں گے جبکہ بینک فوری طور پاکستان کو ایک ارب ڈالر کا قرض دے گا۔

رشید بن مسعود نے کہا کہ پاکستان کو ملنے والے اس ایک ارب ڈالر کے قرضے میں سے 60 کروڑ ڈالر توانائی کے شعبے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔ اس رقم سے بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر بنایا جائے گا تا کہ چوری کو کم کیا جائے اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے سہ جہتی حکمت عملی اپنائی جائے۔

انھوں نے کہا کہ بجلی پر سبسڈی ختم کر کے اسے صرف غریب عوام تک ہی محدود رکھا جائے جبکہ بجلی کے نرخوں کے تعین کا نظام درست کیا جائے اور شعبہ کی کارکردگی بہتر بنائی جائے تاکہ نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ باقی کے 40 کروڑ ڈالر اقتصادی شعبے کی ترقی کے لیے دیے جائیں گے۔

پاکستان میں غربت کم ہو رہی ہے یا نہیں اس سوال کے جواب میں پاکستان کے لیے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان میں غربت میں کمی آ رہی ہے۔

انھوں نے کہا ’میرے خیال میں غریبوں کی تعداد جاننے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم غربت کو دیکھیں اور غربت کم ہو رہی ہے۔‘

مالیاتی شعبے اور اقتصادی ترقی کے لیے عالمی بینک نے 40 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں جس کے تحت اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کی جائے گی تاکہ ملازمت کے مواقع پیدا ہوں اور حکومتی آمدن بڑھنے سے غریب عوام کو تحفظ دیا جائے۔

پاکستان کو فوری طور پر ملنے والا ایک ارب ڈالر کا قرض 25 سال میں لوٹانا ہو گا۔

عالمی بینک کی پانچ سالہ حکمت عملی کے تحت کم خرچ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، لوڈ شیڈنگ میں کمی اور توانائی کے شعبے کے خسارے کو بھی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے جبکہ کاروبار دوست ماحول پیدا کیا جائے گا تاکہ نجی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ وہ جنوبی ایشیائی ممالک میں بجلی کی تجارت کے منصوبے پر بھی زیر غور کر رہا ہے۔

عالمی بینک کے پاکستان میں سربراہ نے کہا کہ ’نئی حکمت عملی کی تیاری میں میڈیا، سول سوسائٹی، اراکین پارلیمان، وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے مشورہ کیا گیا۔ یہ نئی حکمت عملی اس طرح وضع کی گئی ہے کہ یہ ملک کو درپیش مشکل مسائل کا مقابلہ کرنے میں مدد دے گی تا کہ غربت میں کمی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف حاصل ہو سکیں‘

عالمی نے بینک پاکستان میں اقصادی ترقی کی پالیسی اور منصوبوں کو بھی سراہا۔

اسی بارے میں