جنگ گروپ کے مالک اور حامد میر کے بھائی کے خلاف مقدمے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد کا کردار قومی اداروں کی تضحیک اور اُن کو بدنامم کرنے کے مترادف ہے

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سنیچر کو جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمٰن اورسینیئر صحافی حامد میر کے بھائی عامر میر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

میر شکیل الرحمٰن اور عامر میر کے خلاف مقدمے کے اندراج سے متعلق اسلام آباد پولیس کے حکام نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

متعقلہ تھانے کے ایک اہلکار کے مطابق ابھی تک اُنھیں ملزمان کے خلاف مقدمے کے اندارج سے متعلق احکامات نہیں ملے جبکہ اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام وزارتٰ داخلہ کی طرف سے اس بارے میں احکامات کے منتظر ہیں۔

’آئی ایس آئی کے اندر آئی ایس آئی کو ذمہ دار سمجھتا ہوں‘

سب سے زیادہ خطرہ آئی ایس آئی سے تھا:حامد میر

جیو ٹی وی چینل کو بند کریں، وزارت دفاع کی درخواست

عدالت کی طرف سے یہ احکامات ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب پوری دنیا میں تین مئی کو صحافت کی آزادی کا دن منایا گیا۔

ایک شہری محمد ارشد نے اسلام آباد کے ایک ایڈشنل اینڈ سیشن جج محمد جہانگیر اعوان کی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صحافی حامد میر پر کراچی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد اُن کے بھائی عامر میر نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اُن کے بھائی پر حملے کے ذمہ دار ہیں جبکہ جنگ میڈیاگروپ کے ٹی وی چینل جیو نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالسلام کی تصویر بھی ساتھ دکھاتے رہے۔

درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد کا کردار قومی اداروں کی تضحیک اور اُن کو بدنامم کرنے کے مترادف ہے۔ درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ریاستی جُرم کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے اس لیے اُن کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

اس درخواست میں نامزد کیے گئے ملزمان کے وکیل فیصل اقبال خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گُزار متاثرہ فریق نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی نے کورٹ مقامی صحافی خوشنود علی خان کی طرف سے دائر کی جانے والی ایسی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

اُن کا موقف تھا کہ یہ معاملہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا میں زیرِ سماعت ہے اور وہ ہی اس واقعہ سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

متعقلہ عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کسی بھی عدالت پر کوئی پابندی عائد نہیں کی کہ وہ اس ضمن میں دائر کی گئی درخواست پر کوئی مناسب حکم جاری نہیں کرسکتی۔

اُنھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن چھ کی سب کلاز بی اور سی کے تحت کوئی بھی شخص چاہے وہ متاثرہ فریق نہ بھی ہو تو وہ مقدمے کے اندارج کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حامد میر پر 19 اپریل کو کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے

اس درخواست میں نامزد ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ حامد میر پر حملے کا واقعہ کراچی میں ہوا تھا اور مزکورہ عدالت کے پاس اس درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔

درخواست گُزار محمد ارشد کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے عامر میر اور میر شکیل الرحمٰن کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے تھانہ مارگلہ میں درخواست دائر کی تھی تاہم اس ضمن میں پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں ایسی کسی بھی درخواست سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایڈشنل سیشن جج کا کہنا تھا کہ پیمرا میں جیو کے خلاف چلنے والی کارروائی دیوانی نوعیت کی ہے اور ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ جب تک یہ کارروائی چلتی رہے تو اُس وقت تک ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی۔

عدالت نے متعقلہ پولیس حکام کو اس درخواست میں نامزد کیے گئے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

اسی بارے میں