صحافیوں کے سو ہیروز میں ایم ضیاالدین کا نام

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایم ضیاء الدین کا شمار ملک کے مقتدر صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ’جرنلسٹ سان فرنیٹیئر‘ یا سرحدوں سے ماورا صحافی نے ’ہنڈرڈ انفارمیشن ہیروز‘ کے نام سے دنیا بھر کے سو صحافیوں کی فہرست جاری کی ہے جس میں پاکستان سے سینیئر صحافی ایم ضیاء الدین اور جیو ٹی وی کے اینکر پرسن حامد میر کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

صدر مشرف صحافی پر برس پڑے

ایم ضیاء الدین نے پینتالیس سال قبل صحافت کی دنیا میں قدم رکھا تھا اور آج بھی صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور پاکستان کے ایک بڑے اخباری گروپ ایکسپریس ٹرئبیون کے ایگزیکٹویو ایڈیٹر ہیں۔

صحافت میں اپنے طویل کریئر کے دوران ایم ضیاالدین مختلف حیثیتوں میں بیس سال سے زیادہ عرصے تک روزنامہ ڈان سے وابستہ رہے۔

ایم ضیاالدین نے صحافت میں اکانامک رپورٹنگ یا اقتصادی امور پر رپورٹنگ اور تجزیاتی کالم لکھ کر نام کمایا لیکن ڈان میں ملکی سیاست پر ان کے بے لاگ تبصرے اور کالم بھی قارئین میں یکساں مقبول ہوئے۔

روزنامہ ڈان کی طرف سے وہ لندن میں بھی نامہ نگار کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

حامد میر کا نام بھی صحافت کے سو ہیرو کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ حامد میر پر حال ہی میں کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور جس میں وہ بال بال بچ گئے۔

حامد میر بھی گذشتہ پچیس برس سے صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔

ایم ضیاء الدین کو اپنی غیر جانبدارنہ رپورٹنگ اور بے لاگ تبصروں کی بدولت پاکستان کی صحافت میں جو عزت اور وقار حاصل ہوا وہ بہت کم صحافیوں کے حصے میں آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حامد میر نے اوساما بن لادن کا انٹریو بھی کیا

ضیا الدین پاکستان میں فوجی اور جمہوری حکمرانوں کے لیے ہمیشہ ہی ایک ’ناپسندیدہ صحافی‘ رہے۔ اپنی تحریروں کے علاوہ وہ اپنے سوالات سے بھی حکمرانوں کو کبھی نہیں بھائے۔

لندن میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف سے ایک سوال کرنے پر پرویز مشرف نے پاکستانیوں سے اپنے خطاب میں ان کے بارے میں کہا کہ ایسے صحافیوں کو اگر ’ایک دو‘ ٹکا بھی دیے جائیں تو برا نہ ہوگا۔

ضیاالدین ہمیشہ سے آزادی صحافت کے عالم بردار رہے ہیں اور اس کے لیے صحافیوں کی مختلف تحریکوں کی حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔

حامد میر جیو ٹی میں اینکر بننے سے پہلے اردو زبان کے کئی روزناموں میں کام کر چکے ہیں۔

وہ روزنامہ پاکستان اور روزنامہ اوصاف کے مدیر بھی رہے ہیں۔

حامد میر نے پنجاب یونیورسٹی کے شبعہ ابلاغ و نشریات سے جرنلزم میں ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد لاہور ہی سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔

انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے دنیا کے مطلوب ترین دہشت گرد اوساما بن لادن سے انٹرویو کیا جو روزنامہ ڈان میں سرِ ورق کی سرخی کے طور پر شائع ہوا۔

اسی بارے میں