’سلیم شہزاد کا کیس دوبارہ کھلےگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہم چاہتے ہیں کہ حکومت شہزاد سلیم کیس کو بھی ولی خان بابر کیس کی طرح لیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل

صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے سینیئر اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ میں تنظیم کے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے سلیم شہزاد کیس کو دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ 19 مارچ کو سی پی جے کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ڈائریکٹر اور سابقہ سربراہ کاٹی مارٹن کی سربراہی میں وزیرِاعظم نوازشریف سے ملاقات میں پاکستانی صحافیوں کو درپیش خطرات اور ان پر ہونے والے حملوں کے تدارک کے لیے اپنی سفارشات پیش کی تھیں۔

اس ملاقات میں سی پی جے کے وفد میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے) کے ایشیاء پروگرام کوارڈینیٹر باب ڈیٹس کے علاوہ وزیراطلاعات پرویز رشید کے علاوہ مصنف اور صحافی احمد رشید بھی موجود تھے۔

بی بی سی نے باب ڈیٹس سے پوچھا کہ ’آپ نے ذکر کیا کہ وزیرِاعظم سے ملاقات میں سلیم شہزاد کے حوالے سے بھی بات ہوئی تو کیا انہوں نے اس کیس کو دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا؟‘

اس کے جواب میں باب ڈیٹس نے بتایا کہ ’جی ہاں، یہ ہماری گزارشات کی لمبی فہرست میں سے ایک بات تھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر اس کا جائزہ لیں اور اس کو ولی خان بابر کیس کی طرح لیں۔‘

یاد رہے کہ صحافی سلیم شہزاد کو 29 مئی 2011 کو اغوا اور تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے قتل کی تحقیقات کرنے والا کمیشن ملزمان کا تعین کرنے میں ناکام رہا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں سلیم شہزاد کے اغوا سے قبل اسلام آباد میں ایف 8 میں واقع ان کے گھر اور ایف 6 میں واقع دنیا ٹی وی کے دفتر کے درمیان، 29 مئی کی شام کو موجود سکیورٹی چیک پوسٹوں کا نقشہ جاری کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سخت سکیورٹی کے باوجود سلیم شہزاد کو کیسے اغوا کر لیا گیا؟:ایمنسٹی انٹرنیشنل

حال ہی میں جاری کی جانے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں یہ سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ سخت سکیورٹی کے باوجود سلیم شہزاد کو کیسے اغوا کر لیا گیا؟

اور دورانِ تفتیش ان کے موبائل فون کا کال ریکارڈ کیسے غائب ہو گیا؟

اہم بات یہ ہے کہ سلیم شہزاد کے قتل کے بعد بھی صحافی حیات اللہ کے قتل کی طرح انگلیاں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی طرف اٹھائی گئی تھیں مگر ایجنسی اس سے لاتعلقی کا اظہار کرچکی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں جیو نیوز کے اینکر حامد میر نے خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تفتیش پر مقرر کمیشن کے سامنے بیان ریکارڈ کروایا جسے وزیراعظم میاں نواز شریف کے حکم پر قائم کیا گیا ہے۔

پاکستان میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں کے بعد ایسے کمیشن قائم کیے جانے کی ایک تاریخ ہے جن میں سے کسی کی تحقیقات کبھی منطقی انجام تک نہیں پہنچیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حامد میر پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کرنے والا کمیشن اس بار ملزمان کا تعین کر کے ان کو سزا دلانے میں کامیاب ہو سکے گا؟

وزیر اعظم میاں نواز شریف کے حکم پر قائم کیےگئے سپریم کورٹ کے کمیشن نے حامد میر کے علاوہ ان کے بھائی عامر میر سمیت سندھ پولیس اور رینجرز کے سینیئر حکام کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ سالوں میں پاکستان میں 34 صحافیوں کو قتل کیا گیا اور اس میں یہی بات دہرائی گئی ہے کہ ان صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن میں سے کوئی ایک بھی قاتلوں کا تعین نہیں کر سکا۔

باب ڈیٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس سے پہلے وزیرستان کے مقتول صحافی حیات اللہ اور دی نیوز کے صحافی عمر چیمہ پر ہونے والے تشدد سمیت سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن اور ٹربیونل ملزمان کا تعین کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ہمیں پریشانی ہے کہ یہ ایک اور کارروائی ہے جس کا مقصد اظہارِ تشویش تو ہے مگر عملی طور پر یہ قتل اور حملے کرنے والوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘

سینیئر صحافی احمد رشید نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’حامد میر پر ہونے والے حملے نے حکومت اور فوج کے درمیان پھوٹ پیدا کر دی ہے، فوج کی ڈیمانڈ یہ ہے کہ جیو پر پابندی لگائی جائے اور جیو اگر پابندی لگ گئی تو پچیدہ صورتحال پیدا ہو گی۔ پریس اس کے خلاف ہو گا اور حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ایک منتخب حکومت نے یہ پابندی لگائی اور یہ فوج کے لیے بھی اچھا نہیں ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گزشتہ چھ سالوں میں پاکستان میں 34 صحافیوں کو قتل کیا گیا

پاکستان کے 56 سینیئر مدیروں اور صحافیوں نے تین مئی کو ایک مشترکہ اعلامیے میں میڈیا کے درمیان اتفاق اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اس اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ ’پاکستانی میڈیا کے درمیان شرمناک تقسیم سے نہ صرف صحافی مزید غیر محفوظ ہو رہے ہیں بلکہ اس سے انصاف، صداقت اور جمہوریت کے لیے جاری جدوجہد بھی کمزور پڑ رہی ہے اور یہ دنیا کے سامنے ہمیں ایک تماشا بنا رہی ہے۔‘

احمد رشید نے خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’موجودہ صورتحال نے حکومت، میڈیا اور فوج کے درمیان اختلافات کو جنم دیا ہے اور اگر معاملات کو جلد از جلد نہ سنبھالا گیا تو صورتحال مزید خراب ہو گی۔‘

اسی بارے میں