جنگ، جیو کا سوِل اور فوجی قیادت کو خط

تصویر کے کاپی رائٹ GEO
Image caption کئی سیاسی جماعتیں بھی جیو اور جنگ کے خلاف ہو گئی ہیں

جنگ، جیو گروپ کےمطابق گروپ کی انتظامیہ نے جمعے کے روز اعلیٰ سول اور عسکری حکام کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ ان کے خلاف جاری مہم کا نوٹس لیا جائے اور ادارے کے دفاتر اور ملازمین کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔

جیو گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ خط آرمی چیف، وزیرِ داخلہ، وزیرِ اطلاعات، ہوم سیکرٹریز، اعلیٰ پولیس افسران، ڈی جی رینجرز اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو بھیجاگیا ہے۔

خط میں کہاگیا ہے کہ 19 اپریل کو جیو نیوز کے سینیئر صحافی حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد سے جیوگروپ کے ملازمین کو ڈرانے دھمکانے کے واقعات میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

ملازمین کو دھمکانے کے واقعات کے بارے میں خط میں لکھا گیا ہے کہ ’(ان واقعات) کو ایک نئی سطح تک لے جایاگیا ہے اور ہمارے ملازمین کو اس بات کا خوف ہے کہ جیو کے دفتر جاتے ہوئے انھیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

’ہمیں خوف ہے کہ کسی روز کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر روز لاحق خطرات اور بدنام کرنے کی اس مہم کو بلند تر سطح پر لے جایا جا رہا ہے۔‘

خط میں کہاگیا ہے کہ ان دھمکیوں کو اگر سرکاری ’بے خبر‘ اہلکاروں کے بیانات کے پس منظر میں دیکھا جائے تو معاملہ اور بھی سنگین نظر آتا ہے۔

’ہمیں ریاست مخالف، فوج مخالف پکارا جا رہا ہے مختصراً یہ کہ ہم پر غدار ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ہمارے ملازمین، ہمارے لیے لکھنے والوں، تقسیم کاروں اور ادارتی عملے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ڈرانے اور دھمکانے کی ایک منظم اور جارحانہ مہم شروع کر دی گئی ہے۔‘

جنگ کے مطابق ’باوردی‘ حلقوں کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کے واقعات کے پس منظر میں ایسے واقعات سنگین صورتحال اختیار کر جاتے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کہ گروپ کےخلاف نفرت پر مبنی مہم شروع کی گئی ہے: ’ہمیں ملک دشمن، اسلام دشمن، فوج دشمن، اور غدار کہا جا رہا ہے۔ کارکنوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ہمارے دفاتر کا گھیراؤ بھی کیا گیا ہے۔‘

خط میں وزیر داخلہ سے اپیل کی گئی ہے کہ متعلقہ پولیس افسران کو ہدایت کریں کہ وہ پیشگی اقدامات کے لیے جنگ گروپ سے رابطہ کریں: ’اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم عالمی مشنز، اور صحافیوں کی عالمی انجمنوں کو صورتحال سے آگاہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ سب حامد میر پر ہونے والے حملے اور ان کی اور ان کے خاندان کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کے بعد ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں