مشرف چلے گئے تو پھر واپس نہیں آئیں گے:حکومت

جنرل مشرف فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے درخواست میں گزارش کی تھی کہ جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے

پاکستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف عدالتوں میں پیشیوں سے بچنے کے لیے بیرون ملک فرار ہونا چاہتے ہیں، اس لیے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج نہ کیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے بارے میں دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے موقف طلب کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ میں پیر کو اٹارنی جنرل آف پاکستان کے ذریعے دائر جواب میں وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف پر بےنظیر بھٹو قتل کیس، نواب اکبر بگٹی کیس، لال مسجد اور آرٹیکل 6 کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، وہ ان مقدمات میں عدالتوں کے روبرو پیشی سے فرار چاہتے ہیں۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے، اگر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا گیا تو وہ پھر واپس وطن نہیں آئیں گے۔

وفاق کے مطابق ان کو جو مرض لاحق ہے اس کا علاج، ڈاکٹر اور سہولیات پاکستان میں موجود ہیں، اس کے علاوہ حکومت ان کی والدہ کو بھی وطن لانے اور علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش کر چکی ہے۔

سابق صدر کے وکیل فروغ نسیم نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ مشرف نے مختلف عدالتوں سے ضمانت حاصل کر رکھی ہے اور کسی بھی ٹرائل کورٹ نے ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد نہیں کی، جب کہ خصوصی عدالت نے بھی ان کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور وہ جب چاہے انھیں طلب کر سکتی ہے۔

انھوں نے اس پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا اور گزارش کی کہ جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے۔

واضح رہے کہ پانچ اپریل سنہ 2013 کو ملک کی وزارتِ داخلہ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل پر اس لیے ڈالا تھا کہ وہ اپنے اوپر دائر مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کریں۔

اسی بارے میں