خیبر ایجنسی:نیٹو کنٹینر پر حملہ، دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحصیل جمرود میں ہی چند روز پہلے نیٹو افواج کو سامان فراہم کرنے والے دو کنٹینروں پر حملہ کیا گیا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نامعلوم افراد نے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سامان کی ترسیل کرنے والے ایک کنٹینر پر حملہ کیا ہے جس میں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا جبکہ کنٹینر کو آگ لگ گئی ہے۔

یہ واقعہ پیر کی صبح تحصیل جمرود کے علاقے وزیر ڈنڈ میں پیش آیا ہے۔

نیٹو کنٹینروں پر حملہ، 2 زخمی، باڑہ میں سرچ آپریشن

پولیٹکل انتظامیہ کے حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے کنٹینر پر فائرنگ کی جس سے تین افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے دو بعد میں دم توڑ گئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملہ آور اس واردات کے بعد موقعے سے فرار ہوگئے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ حملہ آوروں نے کنٹینر کو آگ لگائی ہے جبکہ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ فائرنگ سے بھڑک اٹھی۔

تحصیل جمرود میں ہی چند روز پہلے نیٹو افواج کو سامان فراہم کرنے والے دو کنٹینروں پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں ایک ڈرائیور اور ایک کلینر زخمی ہوگئے تھے۔

حملے کے بعد موقع پر موجود مقامی پولیس (خاصہ دار) فورس نے جوابی کارروائی کی جس سے حملہ آور فرار ہو گئے۔

افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کو سامان کی ترسیل ایک اہم راستہ خیبر ایجنسی ہے جہاں اکثر نیٹو کے کنٹینروں اور ٹینکروں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ خیبر ایجنسی کے علاوہ بلوچستان میں چمن کے راستے بھی افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

خیبر ایجنسی میں کچھ عرصے سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ چند سالوں میں خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنز کیے گئے جس سے بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی نوشہرہ کے قریب جلوزئی کیمپ میں سب سے زیادہ متاثرہ افراد کا تعلق خیبر ایجنسی سے ہے جبکہ بیشتر متاثرہ افراد اپنے طور پر یا رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں