پنجگور:دس شدت پسند ہلاک کرنے کا دعوی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ ٹارگٹڈ سرچ آپریشن پنجگورمیں این 85 سے ملحق پہاڑی علاقوں میں کیا گیا

صوبہ بلوچستان کے علاقے پنجگور میں فرنٹیئر کور نے ایک ٹارگٹڈ سرچ آپریشن میں دس عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایف سی بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس کارروائی میں ایف سی کے تین اہل کار بھی زخمی ہوئے ہتں۔

یہ سرچ آپریشن پنجگورمیں این 85 سے ملحق پہاڑی علاقوں میں کیا گیا جس میں ایف سی کے سپیشل آپریشن ونگ، پنجگور رائفلز اور آواران ملیشیا کے جوانوں نے حصہ لیا۔

بیان کے مطابق اس کارروائی میں رسد کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہوئے۔

بیان میں کہا گیا ہے اس علاقے میں کالعدم تنظیموں کے کیمپ تھے اور ان میں موجود لوگ جودار اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے سات حملوں میں ملوث تھے۔

اس کارروائی میں دس عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ تین کیمپوں اور دو گاڑیوں کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے ایف سی آپریشن میں بی ایل اے کے اہل کاروں کی ہلاکت کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج مشکے میں فورسز نے نو گن شپ ہیلی کاپٹروں اور دو جنگی جہازوں کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں آباد عام افراد کو نشانہ بنایا۔

ترجمان کے مطابق اس کارروائی میں ایک شخص ہلاک جب کہ خاتون اور تین بچے زخمی ہوئے۔

اس کارروائی کے حوالے سے بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹڈ آپریشن میں اسلحہ بھی بر آمد کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران فورسز کے تین اہل کار بھی شدید زخمی ہوئے ہیں جنھیں علاج کے لیے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس وقت پورے بلوچستان میں چار پانچ لشکر ہیں جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا ان میں بی آر اے، بی ایل اے، بی ایل ایف، لشکرِ بلوچستان، یو بی اے اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور مذاکرات پر مکمل یقین رکھتے ہیں تاہم طاقت کا استعمال آخری آپشن کے طور پر کیا جاتا ہے۔

صوبائی وزیرِ داخلہ کے مطابق ’ہماری پالیسی بڑی واضح ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی مسئلے کا بہترین حل مذاکرات ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب تک مذاکرات کا عمل شروع ہوتا ہے لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت دی جاتی رہے۔‘

اسی بارے میں