شمالی وزیرستان میں پولیو کے مزید چار کیس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے بھی کیے جاتے رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مزید چار بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق کے بعد ملک میں اس سال اب تک اس مہلک مرض سے متاثرہ بچوں کی تعداد 59 ہو گئی ہے جن میں سے 46 کا تعلق قبائلی علاقوں سے بتایا گیا ہے۔

انسداد پولیو مہم کے حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں چار بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

’پاکستان مسافروں کے لیے پولیو ویکسین لازمی قرار دی جائے‘

پولیو مہم میں فوج کی مدد حاصل کر لی گئی

ان میں ایک ہی گھر سے دو بچیاں بھی متاثر ہوئی ہیں جن میں سے ایک انتقال کر گئی ہے۔ ان چاروں بچوں کا تعلق شمالی وزیرستان کے ان علاقوں سے ہے جہاں بیشتر بچوں کو پولیو کے وائرس سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔

حکام کے مطابق ان چار بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق کے بعد ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 59 ہو گئی ہے ۔

گذشتہ سال اس عرصے میں صرف چھ بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ اس سال یہ تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر انتہائی تشویش پائی جاتی ہے ۔

شمالی وزیرستان ایجنسی میں شدت پسندوں کی جانب سے پولیو مہم کی مخالفت اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے انسداد پولیو مہم باقاعدہ طور پر مکمل نہیں کی جا سکی۔

انسداد پولیو مہم کے حکام کے مطابق سب سے زیادہ بچے قبائلی علاقوں میں خاص طور پر شمالی وزیرستان ایجنسی میں متاثر ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں اس سال اب تک 46 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ان 46 بچوں میں سے 40 کا تعلق شمالی وزیرستان ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا سے اس سال اب تک نو بچوں میں اس مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے چار کا تعلق پشاور اور پانچ کا تعلق ضلع بنوں سے بتایا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کا جنوبی ضلع بنوں شمالی وزیرستان ایجنسی کی سرحد سے متصل ہے اور یہاں متاثر ہونے والے بیشتر بچوں کا تعلق بھی شمالی وزیرستان ایجنسی سے بتایا گیا ہے جو نقل مکانی کر کے بنوں آئے ہیں جبکہ ایک بچے کا تعلق ایف آر بنوں سے ہے۔

صوبہ سندھ سے اس سال اب تک چار بچوں میں یہ وائرس پایا گیا ہے اور یہ چاروں بچے کراچی شہر اور اس کے مضافات کے رہائشی ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سمیت مختلف علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والے رضاکاروں اور ان کی سکیورٹی پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں