کیا بلوچ مزاحمت کار اسلام آباد پہنچ رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد کی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کا پتہ نہیں چلا: پولیس افسر

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ سبزی منڈی دھماکے کی تحقیقات میں ابھی تک تمام امکانات زیر غور ہیں اور مذہبی انتہا پسندوں کے ساتھ قوم پرست تنظیمیں بھی شامل تفتیش ہیں۔

اسلام آباد پولیس كے ایڈیشنل آئی جی آپریشنز سلطان اعظم تیموری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بلوچستان پولیس بھی اس سلسلے میں اسلام آباد کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور دیگر تحقیقات کے ساتھ اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے والی یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) کی ماضی کی کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انھوں نہ کہا کہ امرود کی جن پیٹیوں میں بم رکھا گیا تھا وہ مرکزی پنجاب کے شہر پاکپتن کے قریب قبولہ نام كے ایک گاؤں سے آئی تھیں۔ اے آئی جی تیموری کا کہنا تھا کہ ابھی تک 15 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن کسی ماسٹرمائنڈ کی شناخت نہیں ہوسکی۔

انھوں نے کہا كہ ان اشخاس کی ابتدائی تفتیش سے لگتا ہے کہ شاید بارودی مواد ان پیٹیوں کے اسلام آباد پہنچنے كے بعد رکھا گیا۔ اب پولیس کو امید ہے کہ سبزی منڈی كے آس پاس كے علاقوں کی ’جیو فینسنگ‘ سے تفتیش مزید آگے بڑھےگی۔

یاد رہے کہ اس حملے کے فوراً بعد وفاقی وزیر داخلہ نثار علی خان نے یو بی اے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا تھا اور وزارت داخلہ ابھی تک ان کے اس بیان پر قائم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اگر اسلام آباد میں دھماکہ بلوچستان کے مزاحمت کارروں کی کارروائی ہے تو یہ بہت پریشان کن بات ہے: تجزیہ کار

لیکن تجزیہ کارروں كا کہنا ہے كہ حکومت اس بات کو شاید ماننے کو تیار نہیں کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کی کارروائیاں اسلام آباد تک پہنچ گئی ہیں۔پاکستان میں انتہا پسند تنظیموں پر ریسرچ کرنے والے تجزیہ کار عامر رانا کہتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہوگیا تو یہ اسلام آباد کی سکیورٹی صورت حال كے لیے ایک بہت پریشان کن بات ہو گی۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اسلام آباد کی سبزی منڈی پر ہونے والے حملے كے پیچھے بلوچ علیحدگی پسندوں کا ہاتھ ہے تو یہ بلوچ تحریک کے لیے ایک اہم سنگ میل ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ان کی اندرونی بحث کس سمت جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے كے کچھ عرصے سے مختلف بلوچ جنگجو تنظیمیں اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار تعین کرنے میں الجھی ہوئی ہیں۔

چند گروہ اپنی کارروائیاں وسیع پیمانے کرنے کے حامی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں بلوچستان کی جانب میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا یہ واحد ذریعہ رہ گیا ہے۔ اگر اسلام آباد کی سبزی منڈی پر ہونے والے حملے میں یو بی اے کا ہاتھ ہونے کے ٹھوس شواہد مل جاتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ بلوچ علیحدگی پسندوں میں کارروائیاں کا دائرہ کار بلوچستان سے باہر نکالنے کی سوچ حاوی پڑتی جا رہی ہے۔

سینیئر بلوچ صحافی اور آن لائن میگزین بلوچ حال كے ایڈیٹر ملک سراج اکبر کہتے ہیں کہ یو بی اے پاکستان كے مرکزی شہروں تک جنگ پھیلانے کے خاص مقصد كے لیے قائم کی گئی ہے۔ اِس سے پہلے اس تنظیم نے کراچی میں بھی کچھ حملوں كی ذمہ داری قبول کی ہے اور سبزی منڈی والا واقع اس سے ملتا جلتا ہے۔

اسی بارے میں