پاک ایران فوجی سرحدی رابطوں میں فروغ

پاک ایران سرحد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں ملکوں کے درمیان شدت پسندی، انسانی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے سدباب کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی

پاکستان اور ایران نے اپنے ملٹری آپریشن ڈائریکٹروں کے درمیان ہاٹ لائن قائم کرنے اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پیرا ملٹری فورس فرنٹیئر کور اور ایران کے سکیورٹی بارڈر سربراہوں کے درمیان بھی رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

ایران خطے میں دوسرا ملک ہوگا جس کی فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے ساتھ ہاٹ لائن قائم کی جائے گی۔ اس سے پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن قائم ہے۔

منگل کو پنجاب ہاؤس میں پاکستانی اور ایرانی وزارائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان شدت پسندی، انسانی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے سدباب کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔

ایرانی وزیر داخلہ عبد الرضا رحمانی کا کہنا تھا کہ اس کے سدباب کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس بنائی جائے گی جو معلومات ملنے پر سرحد کے دونوں جانب کارروائی کر سکے گی۔

تاہم پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں محض معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا اور دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے اپنے ملکوں کی حدود میں رہتے ہوئے کارروائی کریں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران دونوں ملکوں کے وزرائے داخلہ کی باڈی لینگویج سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے ایرانی بارڈر سکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکاروں کے مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان تناؤ موجود ہے۔

ان پانچ ایرانی اہلکاروں کے اغوا کے واقعے کے سوال پر چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ پاکستانی حدود میں نہیں ہوا اور نہ کوئی ایرانی اہلکار پاکستانی حدود میں یرغمال ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے اس واقعے کی اطلاع پاکستانی حکومت کو سرکاری طور پر دی گئی ہے۔

ایرانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایرانی بارڈر فورس کے پانچ اہلکاروں کے اغوا سے متعلق پہلے بھی پاکستانی حکومت کو معلومات دی گئی تھیں جب کہ اس ضمن میں اب تازہ معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

سعودی عرب اور ایران کی طرف سے پاکستان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے سوال پر چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی نامناسب سوال ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات ہیں جب کہ ایرانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک سعودی عرب سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔

پریس کانفرنس کے آغاز پر چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط تعلقات خطے میں استحکام کے لیے بہت ضروری ہیں۔ جب کہ ایرانی وزیر داخلہ عبد الرضا رحمانی کا کہنا تھا کہ خطے میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے پاکستانی تاجر ایران میں جب کہ ایرانی تاجر پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف 11 مئی کو دو روزہ سرکاری دوررے پر ایران روانہ ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں