سوات:’فوج سے جھڑپوں میں سات شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آپریشن کے دوران تین شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں ہونے والی جھڑپوں میں سات شدت پسند اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔

ملاکنڈ ڈویژن میں سے سرکاری ذرائع نے منگل کو ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ سوات کے علاقے بنجوٹ ازبکہ میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں اب بھی جاری ہیں جن میں ایک سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوا ہے جبکہ تین شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار اور ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا ہے اور اس آپریشن میں فوج کے کمانڈوز بھی حصہ لے رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے گھر گھر تلاشی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے اور منگلور کے ملحقہ علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کے بارے میں معلومات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ اس علاقے میں گذشتہ روز سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملہ کیا گیا تھا جس میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

سوات کے ضلعی پولیس افسر شیر اکبر نے بھی بتایا کہ خفیہ اطلاعات پر سوات، بونیر اور شانگلہ کے سرحدی پہاڑی علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران 18 مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں