عدالت میں ہنگامہ آرائی، عمران خان سے وضاحت طلب

Image caption لاہور ہائی کورٹ نے این اے 122 کے الیکشن نتائج کی دوبارہ گنتی کے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی دے رکھا ہے

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان سے عدالت میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی وضاحت طلب کی ہے۔

عمران خان ایک حلقے میں انتخابی نتائج کی دوبارہ گنتی کے خلاف حکمِ امتناعی کیس میں لاہور ہائی کورٹ میں بدھ کو پیش ہوئے تھے۔

لاہور ہائی کورٹ میں تحریکِ انصاف کے کارکن صبح سے موجود رہے اور عمران خان کے حق اور ایک میڈیا گروپ کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

عمران خان لاہور ہائی کورٹ پہنچے تو ہنگامہ آرائی میں اضافہ ہوگیا اور کارکنوں نے ان کے ہمراہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی اس دوران عدالت کے باہر رکھے گملے ٹوٹ گئے اور عدالت کے دروازے کو بھی نقصان پہنچا۔

ہنگامہ آرائی دیکھ کر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عمر عطا بندیال اٹھ کر چلے گئے اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کردی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل احمد اویس کو کہا کہ وہ عدالت میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بارے میں تحریری وضاحت دیں۔

عدالت میں پیشی کے بعد اپنی رہائش گاہ پر تحریکِ انصاف کے چیئرمین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اس کے خلاف ہونے والے کسی بھی حملے کا دفاع کریں گے۔

لاہور ہائی کورٹ نے این اے 122 کے الیکشن نتائج کی دوبارہ گنتی کے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی دے رکھا ہے۔

اس حلقے سے عمران خان ہار گئے تھے اور مسلم لیگ نون کے ایاز صادق جیتنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی منتخب تھے۔

عدالت نے نو مہینے پہلے یہ حکم امتناعی ایاز صادق کی درخواست پر ہی جاری کیا تھا۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ ایک سازش کے تحت پنجاب میں قومی اسمبلی کے کم از کم 35 نشستوں پر دھاندلی کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج میں دھاندلی کرنے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں