’سفری پابندیوں پر دو ہفتے کی مہلت مانگی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عالمی ادارۂ صحت نے پانچ مئی کو اعلان کیا تھا کہ کہ پاکستان، کیمرون اور شام دنیا میں پولیو کے وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ ہیں

پاکستان کی نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزیرِ مملکت سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ پولیو کی روک تھام کے لیے پاکستان پر لگنے والی سفری پابندیوں پر عملدرآمد کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے دو ہفتے کی مہلت مانگی گئی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے پانچ مئی کو جاری ہونے والی ہدایات میں پاکستان، شام اور کیمرون کو پولیو کے پھیلاؤ کے حوالے سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ان ممالک کے شہریوں کو بیرونِ ملک سفر سے قبل لازماً پولیو کے قطرے پلائے جانے کو کہا تھا۔

اس کے علاوہ مسافروں کو قطرے پلائے جانے کا سرٹیفیکیٹ بھی پیش کرنا ہوگا۔

ان سفری پابندیوں پر غور کرنے کے لیے بدھ کو اسلام آباد میں نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزیرِ مملکت سائرہ افضل تارڑ کی زیرِ صدارت، وزارتِ صحت میں عالمی ادارئے صحت، چاروں صوبوں کے وزرا، دفترِ خارجہ، اور سول ایویشن اتھارٹی کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے بعد، وزیرِ صحت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت سے لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے دو ہفتے کی مہلت مانگی ہے: ’ہم نے انھیں کہا ہے کہ انہوں نے یہ سفارشات بہت جلد بازی میں لگائی ہیں۔ پاکستان بہت محنت کر رہا ہے اور پنجاب اور بلوچستان میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ خیبر پختونخوا میں کم ہو گئے ہیں اور کراچی سے چار کیس سامنے آئے ہیں۔ ہمارے بہت مسائل بین الاقوامی برادری کی وجہ سے ہیں۔‘

اجلاس سے قبل، میڈیا سے بات کرتے ہوئے، عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان کے لیے ڈائریکٹر ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ پاکستان کو مہلت دینے کی گنجائش ضرور ہے: ’یہ سفارشات پانچ مئی سے لاگو ہوئی ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو ان پر مکمل طور پر عمل کرنے میں کچھ ہفتے لگیں گے لیکن، پانچ مئی سے یہ پابندیاں لگ چکی ہیں۔‘

وزیرِ مملکت نے کہا کہ اس عمل کے لیے 80 کروڑ روپے لاگت کی ویکسینز کی ضرورت ہو گی، جس کے لیے پاکستان نے عالمی ادارئے صحت سے مزید وسائل اور امداد کی درخواست کی ہے: ’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ویکسین کی فراہمی ہے اور انٹرنیشنل ہیلتھ ریگیولیشنز کے مطابق عالمی ادارائے صحت جب ایسی سفارشات دیتا ہے تو مدد بھی کرتا ہے۔‘

تاہم وزارتِ صحت کے ایک اہلکار نے نام نے لینے کی شرط پر بتایا کہ انسدادِ پولیو ویکسین فراہم کرنے کا کام ’یونیسیف‘ کا ہے اور ابھی تک یونیسیف کو ایسی کوئی درخواست بھیجی نہیں گئی۔

سائرہ افضل تارڑ نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ سول ایوی ایشن کے مطابق پاکستان میں روزانہ 27 ہزار افراد بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں۔

اس موقع پر سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیکریٹری محمد علی گردیزی نے بتایا کہ جمعرات سے، تمام ہوائی اڈوں پر انسدادِ پولیو ویکسین کے کاؤنٹر لگ جائیں گے: ’یہ کاؤنٹر گیارہ ہوائی اڈوں پر لگائے جائیں گے، جن میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور وغیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، گوادر، تربت اور رحیم یار خان، جہاں سے صرف ایک پرواز جاتی ہے، وہاں بھی کاؤنٹر موجود ہوں گے۔‘

ویکسنیشن سرٹیفیکیٹس کی تفصیل بتاتے ہوئے، وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ سرٹیفیکیٹ مسافروں کو مفت دیے جائیں گے۔

اسی بارے میں