شہباز تاثیر اغوا مقدمے کے ملزمان کی رہائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہباز تاثیر کو اگست سنہ 2011 میں لاہور کے علاقے گلبرگ سے اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اپنے دفتر جا رہے تھے

لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کے اغوا کے مقدمے کے چار ملزمان کو ضمانت پر رہائی کا حکم دیا ہے۔

شہباز تاثیر کو اگست سنہ 2011 میں لاہور کے علاقے گلبرگ سے اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اپنے دفتر جا رہے تھے۔

چار ملزمان معظم، عثمان، عبدالرحمان اور فرہاد بٹ کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی دی گئی۔

لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے شہباز تاثیر کی بازیابی تک ملزمان کو شامل تفتیش رہنے کی ہدایت کی ہے تاہم مغوی کی بازیابی کی صورت میں ان ملزمان کو دوبارہ طلب کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب شہباز تاثیر کی رہائی تک اس مقدمے کو داخل دفتر کردیا گیا ہے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رائے آصف کے مطابق ’ ان چاروں ملزمان کی شناخت پریڈ ہوئی اور ان کی انگلیوں کے نشانات کی بنیاد پر بھی مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔ ان کی فائل میں جو تفصیلات درج ہیں ان کے مطابق ان لوگوں کے پاس پستول تھے انھوں نے شہباز تاثیر کو کھینچ کر گاڑی سے نکالا اور انھیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لے گئے۔‘

اس مقدمے کا چالان بھی عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے، ملزمان پر فردِ جرم بھی عائد ہو چکی ہے۔

اس مقدمے کی کارروائی کے دوران 19 گواہوں کو بھی پیش کیا گیا جب کہ دونوں جانب سے وکلا دلائل بھی دے چکے ہیں تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ابھی مقدمے کا فیصلہ سنانے کے بجائے مغوی کی بازیابی تک مقدمے کو غیرمعینہ مدت کے لیے داخل دفتر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان افراد کو گذشتہ برس لاہور سے مختلف چھاپوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اغوا کے مقدمے میں تو چاروں ملزمان کو ضمانت پر رہائی دے دی گئی تاہم ان میں سے دو افراد عثمان اور عبدالرحمان نے ریمانڈ کے دوران ٹاون شپ اور کاہنہ کے علاقے سے شہباز تاثیر کی قمیض اور عینک اور کچھ دھماکہ خیز مواد برآمد کروایا تھا جس پر انھیں انسداد دہشت گردی کے دفعات کے تحت 23، 23 برس کی سزا اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں