سوات: ’طالبان دکھائی نہیں دیتے، محسوس کیے جا سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کبھی کبھی شدت پسند کسی علاقے میں رات کی تاریکی میں پمفلٹ دکانوں میں ڈال جاتے ہیں یا دیواروں پر چسپاں کر جاتے ہیں

پاکستان کی وادیِ سوات اس بات کی بہترین مثال ہے کہ اگر کسی علاقے کو شدت پسندی کا ناگ ایک بار ڈس لے تو اسے سنبھلنے میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔

وادی میں پاکستانی فوج کے آپریشن ’راہِ حق‘ کی تکمیل کے پانچ سال بعد حالات پر نظر ڈالی جائے تو پہلے سوات میں خودکش حملے اور بم دھماکے کی خبر میڈیا پر دکھائی دیں، پھر ایک اور دھماکے میں چار فوجی زخمی ہوئے جس کے نتیجے میں گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

فضل اللہ کے علاقے میں فوجی چھاؤنی بنانے کا اعلان

’چائنا پولیس، پانچ پیسے والی پولیس‘

علاقے کا دورہ کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ فوج کی گرفت اب بھی کافی مضبوط ہے۔ شانگلہ اور بونیر سے فوجی انخلا پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے لیکن سوات میں اس کی موجودگی دائمی ہے۔ چھاؤنی تعمیر کرنے کا ارادہ ہے، لیکن پیش رفت ابھی نہیں ہوئی۔

طالبان دیکھے نہیں جا سکتے، البتہ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی شدت پسند کسی علاقے میں رات کی تاریکی میں پمفلٹ دکانوں میں ڈال جاتے ہیں یا دیواروں پر چسپاں کر جاتے ہیں، لیکن فوجی فوراً آ کر اتار لیتے ہیں۔

راتوں کو نقاب پوش مشکوک افراد کی دیکھے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، لیکن یہ کون ہیں کسی کو معلوم نہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات گذشتہ دنوں کبل میں کشمیری شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کی جانب سے امداد کے لیے اشتہارات کی تقسیم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سنہ 2007 کے بعد پہلی مرتبہ یہاں ایسی مہم دیکھی گئی ہے۔

گلی گلی آبادیوں کے بیچوں بیچ چوکیوں میں فوجیوں کی موجودگی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ اگرچہ ان چوکیوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے لیکن آمد و رفت میں خلل اور تلاشی جیسی کوفت پر لوگ نالاں ہیں۔

یہ اس علاقے کے لیے قدرتی عمل ہے کیوں کہ تفریح اور سیاحت کے لیے اس سے قبل لوگ بے روک ٹوک یہاں آیا کرتے تھے۔ لیکن ان چوکیوں پر عورتوں کو درپیش مسئلہ قدرے مختلف اور زیادہ سنگین ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ کسی بڑے احتجاج کا سبب بن جائے۔

کچھ عرصہ قبل تک سوات کے مقامی اور قومی اخبارات میں کبھی کبھی یہاں زیر حراست افراد کی اچانک طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی خبریں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں۔ دو سطر کی خبر میں زیادہ معلومات نہیں ہوتی تھیں، لیکن بی بی سی اردو کی جانب سے اس پر تفصیلی رپورٹ کے بعد سے ان مختصر خبروں کی اشاعت اب بند ہوگئی ہے۔ یا پھر لوگوں نے شاید حراست میں مرنا بند کر دیا ہے!

کھل کر بات کرنے سے ہر کوئی ابھی بھی ڈرتا ہے خصوصا میڈیا کے ساتھ۔ البتہ جنھوں نے اپنی حفاظت خود کرنے کا انتظام کیا ہوا ہے، وہ تھوڑا بہت بول لیتے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات سے سواتی زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ وہ سرکاری کمیٹی کے ایک رکن حبیب اللہ خٹک کی مثال دیتے ہیں جو مولانا صوفی محمد کے دور میں ڈپٹی کمشنر دیر تھے اور ان سے مذاکرات میں پیش پیش تھے۔ سوات کے لوگ ان کے اس وقت کے مذاکرات کے نتائج سے بخوبی واقف ہیں اور انھیں ٹوپی ڈرامہ قرار دیتے ہیں۔

اکثر لوگ پشتون معاشرے کے رکن ہونے کے باعث اپنے تلخ ماضی کو بھلانے کو تیار نہیں ہیں۔ طالبان کو معافی کے معاملے پر سوات کی اہم سیاسی و سماجی شخصیت زاہد خان کہتے ہیں وہ اپنا خون کسی کو معاف نہیں کریں گے: ’کوئی بھی ہمارے مجرموں کو معاف نہیں کر سکتا۔ اگر ایسا ہوا تو ہم قانون اپنے ہاتھ میں بھی لے سکتے ہیں۔‘

معلوم نہیں کہ فوج بی بی سی سے بات کرنے سے انکاری تھی یا سوات کے مسئلے پر بات کرنے سے کترا رہی تھی۔ جب مناسب بریفنگ کی درخواست کی تو خفیہ اداروں نے فوراً نام اور دیگر تفصیلات مانگ لیں لیکن اس کے بعد خاموشی اختیار کر لی۔ حالانکہ یہی تو ایک اچھا موقع تھا اپنی کامیابی دکھانے اور اس پر فخر کرنے کا۔

انٹرویو اور بریفنگ تو دور کی بات ہے، مینگورہ میں آخری روز کسی فوجی گشتی جماعت کے ساتھ وقت گزارنے کی درخواست بھی داخل دفتر ہوگئی۔ قومی موضوعات پر خاموشی اچھی لیکن اپنی ماضی کی کامیابیوں پر بات کرنے میں عار کیسا؟

فوج پانچ برس بعد سوات کے حالات کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور اسے کون سے چیلنج درپیش ہیں، یہ تو فوج ہی جانے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مینگورہ میں نجی طور پر نئے سکول کھولے جا رہے ہیں جو کامیابی کے ساتھ چل بھی رہے ہیں۔ فوجی آپریشن میں تباہ ہونے والا سرکاری سکول بھی متحدہ عرب امارات کی مدد سے سے دوبارہ تعمیر ہوگیا

فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سوات میں مجموعی کامیابی کا انحصار ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل پر تھا۔ شدت پسندی اور سیلاب سے سوات کو جو دھچکا لگا اس کے لیے کیا ہو رہا ہے؟ کیا فوج اس بابت مطمئن ہے؟

سیاسی و فوجی رہنماؤں کی سوچ جو بھی ہو، یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ مینگورہ میں نجی طور پر نئے سکول کھولے جا رہے ہیں جو کامیابی کے ساتھ چل بھی رہے ہیں۔ فوجی آپریشن میں تباہ ہونے والا سرکاری سکول بھی متحدہ عرب امارات کی مدد سے دوبارہ تعمیر ہوگیا ہے۔

پورے ملک کے لیے سوات پچھلے پانچ برسوں میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک اچھا نمونہ ہے۔ بہتری کی گنجائش موجود ہے لیکن اس تجربے نے وہ کتابی بات ایک مرتبہ پھر درست ثابت کر دی کہ قانون کی عمل داری اور ریاست کی مضبوط گرفت ہی معاشرے کو شدت پسندی جیسے مسئلے سے دور رکھ سکتی ہے۔

اسی بارے میں