میلسی:’نبوت کا دعویدار‘ گرفتار، مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے سی کے مطابق پاکستان میں توہین رسالت کی سزا موت ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں پولیس نے مبینہ طور پر نبوت کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کر کے اسے جیل بھجوا دیا ہے۔

ملزم غلام اکبر پر الزام ہے کہ اس نے نبوت کا دعوی کرنے کے علاوہ کچھ ایسے کلمات بھی کہے ہیں جو توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں۔

ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے سی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کی سزا موت ہے۔

تھانہ سٹی میلسی کے ایس ایچ او زبیر احمد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ملزم نے ایک اجتماع میں ایسی باتیں کیں جو توہینِ اسلام اور گستاخی رسالت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کی باتوں کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے جو بطور ثبوت عدالت میں پیش کر دی جائیں گی۔

میلسی کے مقامی صحافی عبدالرزاق کے مطابق ملزم سرِ عام ایسی باتیں کرتا تھا جو اسلام کے منافی تھیں۔ مقامی لوگوں نے ان باتوں کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی اور مقامی علما کی ایک کمیٹی نے فیصلہ دیا کہ اس کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروایا جائے۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم کے خلاف ایک شہری عمران کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ملزم پر تحریف قرآن، تحریف اذان کے الزامات عائد کرنے کے علاوہ وحی، نبوت اور بیت اللہ کے بارے میں قابل اعتراض باتیں کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے سی کے مطابق پاکستان میں توہین رسالت کی سزا موت ہے لیکن انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں اس قانون کی مخالفت کرتی ہیں اور اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا غلط استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں