پاکستان:’پانچ سال میں حج کیا ہے تو اس بار نہیں جا سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حج کے لیے حکومت کو لاکھوں درخواستیں موصول ہوتی ہیں

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ جن پاکستانیوں نے گذشتہ پانچ برس کے دوران حج کیا ہے، وہ اس سال حج نہیں کر سکیں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے پالیسی بنائی ہے جن لوگوں نے گذشتہ پانچ سال کے اندر اندر حج کیا ہے وہ اس سال حج نہیں کر سکیں گے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ وہ لوگ جو کسی خاتون کے ساتھ بطورِ محرم جا رہے ہیں، یا وہ جو حجِ بصل کر رہے ہیں (یعنی وہ لوگ جو کسی اور کی طرف سے حج کرنے کے لیے جا رہے ہیں) ان پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ویسے تو پاکستان کا کوٹا ایک لاکھ 80 ہزار ہے لیکن پچھلے سال اس میں کٹوتی ہو گئی تھی اس لیے اس سال ایک لاکھ 43 ہزار افراد حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ اس سال پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر درخواستیں طلب کی گئی تھیں اور ایک ہی دن میں سوا لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہو گئی تھیں۔

دریں اثناء سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئر مین سینیٹر حافظ حماد اللہ نے کہا ہے کہ جن حجاج اکرام کو اس سال سیٹ نہیں ملتی انھیں آئندہ برس ترجیح دی جائے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ حج پیکج میں خوارک کو حجاج اکرام کی صوابدید پر چھوڑا جاے۔

کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ حکومتی کوٹے پر درخواست دینے والوں کو اپنی درخواست مکمل کرنے کے لیے صرف ایک دن دیا گیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ دور دارز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے حجاج اکرام کو اس میں نظر انداز نہیں کیا گیا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ تمام حجاج اکرام کو یکساں مواقعے فراہم کیے جانے چاہیں کیونکہ یہ ہر شہری کا حق ہے۔

کمیٹی نے حج آپرٹروں کے نرخ پر بھی غور کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جج آپریٹروں کے کرائے چار لاکھ ساٹھ ہزار روپے سے شروع ہو کر بائیس لاکھ روپے تک جاتے ہیں۔ اتنے زیادہ نرخ پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ ان پر مستقل نظر رکھی جانی چاہیے۔

اسی بارے میں