جیو کے خلاف کارروائی پر پیمرا میں اختلافات

تصویر کے کاپی رائٹ GEO
Image caption وزارتِ دفاع نے جیو کی نشریات کو فوری طور پر معطل کرنے اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اس کا لائسنس منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی

پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی نے وزارت دفاع کی جانب سے جیو نیوز کی نشریات معطل کرنے کی درخواست سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پر وزارت قانون سے رائے مانگ لی ہے۔

پیمرا یعنی پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی کا جمعہ کو اجلاس ہوا جس میں پیمرا کے دو اراکین نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جیو کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پیمرا کی رکنیت سے استعفی دے دیا ہے۔

پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اجلاس کے دوران ممبران نے جیو ٹی وی کے معاملے کو ایجنڈے میں ترجیحی بنیاد پر اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

پیمرا کے دو اراکین اسرار احمد اور میاں شمس نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جیو کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا تاہم دیگر اراکین نے اس تجویز کے برعکس کارروائی سے قبل وزارت قانون سے قانونی مشورے کے حق میں تجویز دی۔

پریس ریلیز کے مطابق دونوں ممبران نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جیوز نیوز کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے فیصلے پر نہ صرف اجلاس کا بائیکاٹ کیا بلکہ پیمرا کی رکنیت سے بھی مستعفی ہوگئے۔

اجلاس میں پیمرا کے تین سابق ممبران اور نجی شعبے کے 6 مبران سمیت کل 11 افراد نے شرکت کی۔جبکہ اجلاس میں ادارے کے نو منتخب ایگزیکٹو ممبر کمال الدین ٹیپو بھی شریک ہوئے۔

ممبران نے پیمرا کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی جانب سے اپنائے گئے قانونی طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ جیو نیوز کے حوالے سے ہونے والی کارروائی میں اٹھائے جانے والے سوالات اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں موجود قانونی غلطیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس میں موجود گیارہ اراکین میں سے زیادہ تر کی رائے یہ تھی کہ نامناسب طور پر غلط قانونی کارروائی کی وجہ سے پیمرا خود متاثر ہو سکتا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیمرا نے فیکٹ فائینڈنگ رپورٹ کو وزارت قانون کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے ایک ہفتے کے اندر اندر قانونی مشورہ مانگا ہے۔

23 اپریل کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی نے وزارت دفاع کی جانب سے جیو کی نشریات کو فوری طور پر معطل کرنے اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اس کا لائسنس منسوخ کرنے کی درخواست پر چینل کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے چھ مئی تک جواب طلب کیا تھا۔

وزارت دفاع کی جانب سے درخواست موصول ہونے کے بعد پیمرا حکام نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے کئی گھنٹوں درخواست پر غور کے بعد معاملہ پیمرا بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پیمرا کی تین رکنی کمیٹی ممبران پرویز راٹھور، اسرار عباسی اور اسماعیل شاہ پر مشتمل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینیئر صحافی حامد میر انیس اپریل کو کراچی میں ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے تھے

یاد رہے کہ اس سے قبل وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ جیو ٹی وی کے سینیئر اینکر پرسن حامد میر پر حملے کو جواز بنا کر بغیر ثبوت کے پاکستان کے قومی اداروں پر حملے کیے جانا اور انھیں مورد الزام ٹھہرانا تشویش ناک ہے۔

بعد ازاں 5 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جنگ میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن اور صحافی عامر میر کے خلاف اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے مقدمہ درج کرنے سے متعلق جاری کردہ حکم معطل کر دیا تھا۔

چار مئی کو جنگ، جیو گروپ کےمطابق گروپ کی انتظامیہ نے اعلیٰ سول اور عسکری حکام کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ ان کے خلاف جاری مہم کا نوٹس لیا جائے اور ادارے کے دفاتر اور ملازمین کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔

جیو نیوز سے منسلک صحافی حامد میر گذشتہ ماہ کراچی میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔ حامد میر کے مطابق وہ ’آئی ایس آئی میں موجود آئی ایس آئی‘ کو حملے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

حامد میر پر حملے کے بعد جیو نیوز اور حامد میر کے بھائی نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا تھا جب کہ فوج کے ترجمان نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں