’دھاندلی کے لیے تفتیشی کمیٹی بنانے کے لیے تیار ہیں‘

Image caption جب تک جنگ اور جیو میڈیا گروپ معذرت نہیں کرے گا تب تک بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا: عمران خان

وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے پاکستان تحریک ِانصاف کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اس معاملے کی چھان بین کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان تحریک ِانصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پارلیمنٹ پر مشتمل اس کمیٹی میں ساری پارلیمانی پارٹیوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

وفاقی وزیرِ ریلوے نے کہا کہ ’اس حوالے سے دونوں طرف سے مل کر ایک جامع طریقۂ کار اپنانا ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار ہے۔ سعد رفیق نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک ِانصاف کے پاس لگائے گئے الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کے ان کے کیس ابھی تک کورٹ میں التوا کا شکار ہیں۔

وفاقی وزیرِ کا کہنا ہے کہ ’تحریک ِانصاف کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرے اور حکومت کو بدنام نہ کرے۔ ان کو جمہوریتی نظام کو مظاہروں کی سیاست سے کمزور نہیں کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرنے میں اور تحریک ِانصاف کی طرف سے شناخت کردہ چاروں حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم انگوٹھوں کی شناخت ممکن نہیں ہے کیونکہ الیکشن میں باقاعدہ مقناطیسی سیاہی کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ جمعہ دو مئی کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ گذشتہ سال انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی اور جنگ اور جیو گروپ کا ’انتخابات میں دھاندلی میں کردار‘ ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ جب تک یہ ’میڈیا گروپ معذرت نہیں کرے گا تب تک بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔‘

اس کے علاوہ ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف اتوار کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دے گی اور اس دھاندلی کے خلاف احتجاج کرے گی۔

اسی بارے میں