’شیشے پر پابندی میں کوئی نرمی نہیں ہوگی‘

Image caption شیشے کا کش لگانا اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ سگریٹ پینا خطرناک ہے

پارلیمانی سیکریٹری برائے انسدادِ منشیات اور داخلہ امور مریم اورنگزیب نے جمعرات کو قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ شیشے پر پابندی کے حوالے سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

انھوں نے یہ بات رکن قومی اسمبلی چوہدری خادم حسین کی طرف سے دائر کیے گئے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں کہی۔ جس میں اسلام آباد کے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ اگر کسی کو کہیں بھی کسی شیشا کیفے کے موجود ہونے کی اطلاع ہے تو وہ حکومت کی طرف سے دیے گئے ٹول فری نمبر پر فون کر کے اطلاع دیں۔

مریم اورنگزیب نے مذید کہا کہ اس حوالے سے انسدادِ منشیات کی ایک مخصوص ٹاسک فورس بھی تشکیل دی گئی ہے جو شہر کے اندر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ یہ فورس سکول اور کالجوں میں بھی منشیات کے حوالے سے شعور پیدا کرنے میں مصروف ہے اور جون کے مہینے سے ایک نئی مہم کا آغاز کیا جائے گا ۔

انھوں نے بتایا کہ ماضی میں اس قسم کی کوئی کمیٹی موجود نہیں تھی تاہم موجودہ حکومت اس معاملے کو سنجیدہ طور پر لے رہی ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری کا کہنا تھا کے ملکی سرحدوں پر بھی اس سلسلے میں مکمل نگرانی کی جارہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ G.Hyder
Image caption سکول اور کالجوں میں بھی منشیات کے حوالے سے شعور پیدا کرنے کے لیے جون کے مہینے سے ایک نئی مہم کا آغاز کیا جائے گا

شیشہ عربی طرز کا حقہ ہے جس میں گرم پانی اور پائپ کے ذریعے تمباکو کو کوئلہ کے ذریعہ جلاتا ہے اور جس کا دھواں بھرپور کش کے ذریعہ اندر کی جانب کھینچا جاتا ہے۔

شیشہ پینے والا جب کش لیتا ہے تو دھوئیں کے اندر تمام زہریلے مادے پانی سے ہوتے ہوئے دھوئیں کی شکل میں انسانی جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔

برطانوی ادارے ٹوبیکو کنٹرول ریسرچ کا کہنا ہے کہ شیشے کا کش لگانا اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ سگریٹ پینا خطرناک ہے۔ تازہ ترین ریسرچ کے مطابق ایسے لوگوں میں کاربن مونو آکسائیڈ کا لیول سگریٹ نوشوں کی نسبت چار سے پانچ گنا تک زیادہ ہو سکتا ہے اور کاربن مونو آکسائیڈ کی غیر معمولی مقدار دماغ کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔