’سوئس بینکوں سے 200 ارب ڈالر واپس لائیں گے‘

Image caption ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد کو آٹھ لاکھ سے بڑھا کر 13 لاکھ تک لے جائی جائے گی: پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر سوئس بینکوں میں رکھے گئے 200 ارب ڈالر واپس لانے کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل نے ایوان کو بتایا کہ کابینہ نے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان موجودہ ٹیکس معاہدے پر نظرِ ثانی کی منظوری دے دی ہے۔

ان کے مطابق اس معاہدے پر دوبارہ غور کرنے کے اقدام سے ان پاکستانیوں کی نشاندہی ہوگی جن کی سوئس بینکوں میں غیر قانونی طور پر رقوم رکھی ہوئی ہیں۔

رانا محمد افضل کا کہنا تھا کہ ایف بی آر پہلے ہی اس عمل میں مصروف ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے مہنگے علاقوں میں پراپرٹی خریدنے والوں، زیادہ بل ادا کرنے والوں اور بچوں کو مہنگے سکولوں میں پڑھانے والوں کی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت لاکھوں مزید ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہتی ہے اور ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد کو آٹھ لاکھ سے بڑھا کر 13 لاکھ تک لے جایا جائے گا۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے کچھ عرصے سے قومی خزانے میں زرِ مبادلہ میں اضافے کی کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے زیر انتظام تھری جی کے چار اور فور جی موبائل سروسز کے ایک لائسنس کی نیلامی کی گئی۔ اس نیلامی سے حکومت کو ایک ارب 11 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم حاصل ہوئی۔

اس کے علاوہ پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی شش ماہی رپورٹ میں کہا تھا کہ مارچ 2014 میں سٹیٹ بینک کے ذخائر پر دباؤ خاصا کم ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ نے خلیج تعاون کونسل کے ایک رکن ملک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم غیر متوقع طور پر ملنے پر بہت مثبت ردعمل ظاہر کیا۔

اسی بارے میں