انتخابات کو ایک سال مکمل، مختلف مظاہروں کا انعقاد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسلام آباد کے ڈی چوک میں پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاجی مظاہرے کے پیشِ نظر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں

پاکستان میں گیارہ مئی 2013 کے تاریخی انتخابات کے ایک سال بعد آج ملک بھر میں مختلف شہروں میں متعدد سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا ہے۔

ان مظاہروں میں سب سے آگے پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی مظاہرہ ہے جو کہ گذشتہ سال کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک میں منعقد ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں جماعت کے سربراہ عمران خان ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ لاہور سے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر اعجاز چوہدری کی سربراہی میں ایک قافلہ روانہ ہوگا جس میں گجرانوالہ، گجرات اور جہلم سے بھی قافلے شامل ہوں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کے لیے آنے والوں کو روک کر حکومت خود جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی جانب جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شرکا کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے سے نہیں روک سکتی۔

’حکومت میری جماعت کے کارکنوں کو نہیں روک سکتی اور اگر روکا گیا تو وہ پولیس کا مقابلہ کریں گے۔ میں اپنے کارکنوں کو ایک بار پھر کہتا ہوں کہ وہ پرامن رہیں لیکن ڈی چوک ہر حال میں پہنچنا ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت اسلام آباد میں پرامن احتجاجی مظاہرہ کر کے اپنا جمہوری حق استعمال کر رہی ہے۔ ’ہماری جماعت نے ملک میں درمیانی مدت کے انتخابات کا مطالبہ نہیں کیا۔‘

تحریکِ انصاف کے علاوہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری لاہور میں ریلی کا انعقاد کریں گے جس کا آغاز ناصر باغ سے اور اختتام پنجاب اسمبلی پر ہوگا۔ اختتام پر ویڈیو لنک کے ذریعے طاہر القادری شرکا سے خطاب کریں گے۔

ادھر خیبرپختون خوا میں تحریک انصاف کی سب سے بڑی اتحادی جماعت جماعت اسلامی نے عمران خان کے احتجاج کی حمایت تو نہیں کی، لیکن اسی صوبے سے تعلق رکھنے والے نو منتخب امیر سراج الحق اتوار کو ہی لاہور پہنچ رہے ہیں۔ لاہور میں ان کے استقبال کے سلسلے میں کرکٹ گراؤنڈ پر جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف آج دو روزہ دورے پر ایران روانہ ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا تھا کہ احتجاج کرنا سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے تاہم اسے جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے ۔

تاہم وزیر اطلاعات نے واضح طور پر کہا کہ کسی حلقے کی طرف سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کے شرکاء کی تلاشی کے لیے نہ صرف ’واک تھرو گیٹس‘ لگائے جائیں گے بلکہ باردو کی بو سونگھ کر اس کا پتہ لگانے والے کتوں کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شرکاء کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

انتخابات کے ایک سال بعد الیکشن کمشن کو مظاہرین کی طرف سے کئی الزامات کا سامنا ہے اور دھاندلی سے متعلق کچھ شکایات سلجھانی بھی باقی ہیں۔ اس کام کے لیے مختص مدت چند ماہ کی تھی۔

اسی بارے میں