برا ہو مشیل اور ملالہ وغیرہ کا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما نے ٹوئٹر پر چلنے والی تحریک ’ہماری لڑکیوں کو واپس لاؤ‘ میں سرگرمی سے حصہ لیا

براعظم افریقہ کے سب سےگنجان مسلمان ملک نائجیریا کے شمالی صوبے بورنو کےقصبے چیبوک کے گورنمنٹ سیکنڈری گرلز سکول کے ہاسٹل سے بارہ تا پندرہ برس کی طالبات کو اغوا ہوئے لگ بھگ ایک ماہ ہو چلا۔

276 میں سے 53 طالبات چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔ ان کے بیانات کے مطابق پیچھے رہ جانے والی 223 میں سے دو طالبات سانپ کے کاٹے سے مرگئیں، 20 شدید بیمار ہیں اور درجن بھر سے اغوا کاروں نے نکاح کرلیا ہے، جبکہ چند عیسائی طالبات اب مسلمان ہیں۔

اس واردات کی ذمہ دار متشدد تنظیم بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ نے واقعہ کے بائیسویں روز منظرِ عام پر آنے والی وڈیو تقریر میں کہا کہ یہ لڑکیاں مغربی تعلیم کے حامیوں سے جاری لڑائی کا مالِ غنیمت ہیں چنانچہ انہیں سرِ بازار نیلام کرنا یا لونڈی بنا کر رکھنا جائز ہے۔

اس سے پہلے کہ نائجیریا سمیت 57 مسلمان ممالک پر مشتمل اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا اجلاس طلب کیا جاتا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے طالبات کی رہائی کے لیے ضروری امداد کی اپیل کر دی مگر اس نیک عمل کو یہ حقیقت مشکوک بنا دیتی ہے کہ اس وقت پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے تیرہ ارکان غیر مسلم ہیں۔

اس سے پہلے کہ عالمِ اسلام کے نظریاتی ایٹمی قلعے پاکستان کی پارلیمنٹ بوکو حرام کے ہاتھوں نائجیریائی طالبات کے اغوا پر کوئی سخت موقف اختیار کرتی یورپی یونین نے مذمت کرڈالی۔

خادمِ حرمین و شریفین بوکو حرام کے اغوا کاروں کو اسلام کی درست اور غلط تشریح کا فرق بتانے کے لیے دینی ماہرین کا ایک وفد بس نائجیریا بھیجا ہی چاہتے تھے کہ امریکی ، برطانوی اور فرانسیسی تفتیشی ماہرین آلات سمیت نائجیریا میں آن دھمکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نائجیریا میں مغوی طالبات کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری ہے

اس سے پہلے کہ انڈونیشیا ، ترکی ، ایران ، پاکستان ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، ملائشیا اور مصر کے مصنوعی سیارے اغوا ہونے والی طالبات کے جغرافیائی اتے پتے کے لیے مغربی افریقہ پر سیٹلائٹ کیمرے فوکس کرتے ، بے دین چین نے اعلان کردیا کہ اس کے مصنوعی سیارے ان طالبات کی تلاش میں مدد دینے والی تصاویر فراہم کریں گے۔

اور سونے پے سہاگہ یہ ہوگیا کہ کسی بھی مسلمان ملک کی خاتونِ اول کو اعتماد میں لیے بغیر امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما نے ٹوئٹر پر چلنے والی تحریک ’ہماری لڑکیوں کو واپس لاؤ‘ میں نہ صرف سرگرمی سے یکطرفہ شمولیت اختیار کر کے اس نعرے کا پلے کارڈ پکڑ کے فوٹو کھنچوایا بلکہ صدر اوباما کی جگہ اس دفعہ کا ہفتہ وار صدارتی خطاب بھی مشیل نے کیا اور نائجیریا کی مغوی طالبات کو ہی موضوع بنایا۔

اور اس سے بھی بڑا غضب یہ ہوگیا کہ لڑکیوں کی تعلیم کی بین الاقوامی سفیر ملالہ یوسف زئی نے اغوا ہونے والیوں کو اپنی بہن قرار دیتے ہوئے یہ کہا کہ کچھ بھی ہوجائے امید کا پرچم مت گرنے دینا۔(چلو بھئی ! یہاں ایک ملالہ کباب میں ہڈی بنی ہوئی تھی اب مزید 276 کو بھی بھگتو)۔

اس قضئیے میں ملالہ کے کود پڑنے سے مجھ جیسوں کا شبہ یقین میں بدل گیا ہے کہ ہو نہ ہو نائجیریائی طالبات کا اغوا ایک نیا صیہونی مغربی پلاٹ ہے جس کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ کل کلاں یہ راز بھی کھل جائے کہ بوکو حرام دراصل را ، موساد اور سی آئی اے کی فنڈنگ سے چل رہی ہے۔

انہی شکوک و خدشات کے پیشِ نظر لگ بھگ سب ہی مسلمان ممالک نے ایک ماہ گذرجانے کے باوجود کھل کے بوکو حرام کے بارے میں اپنا موقف بیان کرنے سے پرہیز کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملالہ یوسف زئی نے اغوا ہونے والی لڑکیوں کو اپنی بہن قرار دیا ہے

مگر ایسا بھی نہیں کہ مسلمان دنیا بالکل ہی خاموش ہے۔ جدہ میں قائم اسلامی کانفرنس تنظیم کی فقہ اکیڈمی نے ایسی پرتشدد حرکتوں کو قرآن و سنت کے مکمل منافی قرار دیا ہے۔ جامعہ الازہر نہ سہی مگر اس کے ایک عالم شیخ احمد الطیب نے بھی اسے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کے برابر بتایا ہے۔

لاکھوں دیگر مفتیانِ کرام کے بارے میں بھی یہی حسنِ ظن رکھنا چاہیے کہ بھلے ایسی وارداتوں کو ہاتھ سے روکنے یا زبان سے برا کہنے کی حالت میں بوجوہ نہ بھی ہوں تب بھی دل میں ضرور برا جان رہے ہوں گے۔

یہ بھی حسنِ ظن رکھنا چاہیے کہ اگر مغربی دنیا اور اس کے ایجنٹ نائجیریائی طالبات پر گذرنے والی قیامت کو اپنے مقاصد آگے بڑھانے کے لیے ہائی جیک نہ کر لیتے تو ملتِ اسلامیہ کے ہر دکھ درد میں برابر کے شریک پاکستان اور دیگر ممالک میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں درد مند اس وقت سڑکوں پر ضرور ہوتے۔

گزرے چار جمعتہ المبارک کے خطبات میں ان طالبات کی رہائی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتیں اور پاکستانی سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں جماعتِ اسلامی یا جمعیت علمائے اسلام وغیرہ کا کوئی بھی رکن سرکاری بےحسی کے خلاف قرار داد بھی پیش کرتا اور اگر اسلامی نظریاتی کونسل نہ سہی تو اس کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی سکولوں میں زیرِ تعلیم طالبات کے اغوا کی شرعی حیثیت کے بارے میں قوم کی رہنمائی یقیناً فرماتے۔

لیکن میں کیا اول فول بکے چلا جارہا ہوں اور وہ بھی ان کے سامنے جو خود ایک مدت سے اغوا ہیں۔

اسی بارے میں