جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوشش؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے اعلان کیا کہ 23 مئی کو صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں جلسہ کیا جائے گا

اسلام آباد کی شاہراہِ جمہوریت پر واقع الیکشن کمیشن کو آج کئی الزامات اور شکایات کا سامنا ہے۔

11 مئی 2013 کو سیاسی جماعتیں، میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت سب کی نظریں جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لیے الیکشن کمیشن پر تھیں، لیکن اب توجہ کا مرکز تبدیل ہو گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے بجائے سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہیں اور سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے نئی انتخابی فہرستوں، مقناطیسی سیاسی کا استعمال اور الیکشن ٹریبیونل میں سابق ججوں کی تعیناتی سمیت کئی اقدامات متعارف کروائے لیکن انتخابات کے شفاف ہونے پر کئی سوالات جوں کے توں باقی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج سے منسلک شکایات سننے کے لیے 14 ٹربیونائل بنائے اور قانون کے تحت انتخابی امید وار 45 دونوں میں نتائج سے متعلق شکایات داخل کروا سکتے تھے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج سے منسلک 410 شکایات الیکشن ٹربیونلوں کو بھیجوائیں اور قانون کے تحت الیکشن ٹربیونلوں کو 120 دنوں یعنی چار ماہ میں شکایات سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنانا تھا لیکن ابھی بھی کئی سو پٹیشنز زیر التوا ہے۔

پاکستان میں انتخابات کے اعداد و شمار اکٹھا کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافین) کی رپورٹ کے مطابق مارچ دو ہزار چودہ تک الیکشن ٹربیونلز نے چار سو دس شکایات میں سے صرف تین سو پچاسی درخوستوں پر فیصلہ سنایا۔ فافین کے سربراہ مدثر رضوی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب درخواستیں ٹربیونلز کو تاخیر سے بھجوائی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ ’تاخیر کی تین وجوہات ہیں۔ ٹربیونلز کے فیصلے پر اعلیٰ عدلیہ نے حکمِ امتناعی دیا ہوا ہے۔ پنسٹھ سے ستر فیصد درخواستوں ایسی ہیں جو تصدیق کے لیے حکومتی اداروں جیسے نادرا یا ہائیئر ایجوکیشن کمشین میں گئی ہوئی ہیں۔ اور بعض معاملات میں درخواست گزار ہی سستی کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں انتخابات کے ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے نئے الیکشن کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے

عام انتخابات میں دھاندلی پر پاکستان تحریک انصاف احتجاج کر رہی ہے۔ جماعت کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں شفاف انتخابات کے مطالبے سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہی کمزور نہیں۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے صرف چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس سال گزرنے کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

عمران خان نے کہا ہے کہ ’ہم نے انتخابات کو تسلیم کر لیا۔ حکومت کو تسلیم کر لیا، لیکن اگلے الیکشن کے لیے دھاندلی قبول نہیں کی۔ یہ جمہوریت کو گرانے کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت صاف و شفاف انتخابات سے مضبوط ہوتی ہے۔‘

لیکن عمران خان کے احتجاج اور الزامات کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ عمران خان کے مطالبات حکومت سے نہیں ہیں مگر پھر بھی حکومت کے دائرہ اختیار میں جو کچھ ہے وہ کرنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے کہا ’انھیں(عمران خان) اعتراضات ہیں تو الیکشن ٹربیونلز سے، الیکشن کمشین سے، کوئی ایسا اِختیار حکومت کے پاس نہیں ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے پاس ہے اعلیٰ عدالتیں آزاد ہیں۔ حکومت تو کچھ نہیں کر سکتی۔‘

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے خیال میں انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج پارلیمان میں رہ کر کیا جانا چاہیے نہ کہ سڑکوں پر۔ پیپلز پارٹی کے سینٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ غیر جمہوری عناصر کا متحد ہونا کسی خطرے سے کم نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’تحفظات کے باوجود ہم نے انتخابی نتائج تسلیم کیے کیونکہ جب بھی انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا اور سڑکوں پر احتجاج ہوا، اس کا فائدہ غیر جمہوری طاقتیں اُٹھاتی ہیں اور جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔‘

پاکستان میں جمہوریت پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ کے چیئرمین احمد بلال صوفی کے خیال میں الیکشن کمیشن اور انتخابی نظام کو شفاف بنانے کے لیے پارلیمان میں رہتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا: ’مسئلہ ہے تو اُسے حل کرنے کے لیے قانون بنانا پڑے گا،ُ کوئی ترمیم لانا پڑے گی۔ پارلیمنٹ میں تو آپ خود بھی ہیں آپ ترمیم لا سکتے ہیں، قانون لا سکتے ہیں، لیکن یہ راستہ انھوں نے بالکل چھوڑ دیا ہے۔‘

طاہر القادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک، شیخ رشید کی جماعت عوامی مسلم لیگ اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی سیاسی جماعت مسلم لیگ قائداعظم بھی احتجاج کر رہی ہے۔

ماضی میں سڑکوں سے شروع ہونے والی تحریکوں کو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ تجربہ کار سیاستدان اور مبصرین کا خدشہ ہے کہ کہیں غیر جمہوری طاقتوں کو آپس میں ملانے میں وہ خفیہ عناصر ملوث تو نہیں جو پاکستان میں جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں