’موجودہ حکومت اور نظام کا خاتمہ واجب ہوچکا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طاہر القادری نے کہا کہ جس روز عوامی انقلاب کا حتمی اعلان کریں گے، وہ کینیڈا سے پاکستان پہنچ جائیں گے

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق موجودہ حکومت اور نظام کا خاتمہ واجب ہوچکا ہے، موجودہ پارلیمنٹ دستور پاکستان کی شق 213 اور 218 کے خلاف قائم ہوئی اس لیے یہ غیر آئینی حکومت ہے۔

انھوں نے اس حوالے سے انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’لعنت ہے ایسے جمہوری اور عدالتی نظام پر جو غریب کو انصاف فراہم نہ کرسکے۔‘

لاہور، راولپنڈی اور کراچی سمیت سات شہروں میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے طاہر القادری کا کہنا تھا کہ وہ جمہوریت کو ’ڈی ریل‘ کرنا نہیں چاہتے ہیں البتہ اس ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔

بقول ان کے جمہوریت وہ ہے جس میں انصاف، شفافیت اور احتساب ہو، لوگوں کو ووٹ دینے کا حق اور برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہو۔

طاہر القادری نے کہا کہ جس روز عوامی انقلاب کا حتمی اعلان کریں گے، وہ کینیڈا سے پاکستان پہنچ جائیں گے اور انہیں صرف تیرہ گھنٹے لگیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ انقلاب کے بعد نظام کی منتقلی کے لیے ٹیم تیار کر لی ہے۔

گذشتہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی اس جماعت کے سربراہ طاہر القادری نے ایک سال کے بعد ہی اپنا سیاسی پروگرام پیش کردیا ہے۔ ان کے مطابق عوامی انقلاب کی صورت میں نظام تبدیل کیا جائے گا، جو اسلامی نظام اور یورپی چارٹر کے مطابق ہوگا۔

طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ان کے مجوزہ نظام میں لیڈر آف دی ہاؤس نہیں بلکہ لیڈر آف نیشن ہوگا، جس کا انتخاب ڈائریکٹ عوام کریں گے، چھ ہزار یونین کاؤنسلیں قائم ہوں گی جس کے ذریعے دس لاکھ نمائندوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

’مرکز کے پاس صرف ایک کرنسی، دفاع ،خارجہ پالیسی، اعلیٰ تعلیم، انسدادِ دہشتگردی، قانون اور توانائی کے محکمے ہوں گے، باقی دیگر محکمے ضلعی کاؤنسلوں اور یونین کاؤنسلوں کے حوالے کیے جائیں گے۔

ان کے مجوزہ نظام کے مطابق ہر ڈویزن صوبہ ہوگا، سپریم کورٹ کی نچلی سطح پر منتقلی ہوگی اور صوبائی سپریم کورٹ قائم کی جائیگی، جبکہ مرکز میں صرف آئینی سپریم کورٹ ہوگی۔

بقول طاہرالقادری کے سیشن عدالتیں تحصیل اور یونین کاؤنسل عدالتیں قائم ہوں گی۔ عدالتیں تین ماہ میں فیصلے سنانے کی پابند ہوں گی، غریبوں کو حکومت وکیل فراہم کرے گی۔

ان کے پروگرام کے مطابق مفت علاج اور تعلیم کے علاوہ زرعی زمینوں کی تقسیم ہوگی، غریب لوگوں کو حکومت گھر تعمیر کرکے دے گی جو بغیر سود کے اقساط میں حاصل کیے جائیں گے جو غریب ادائیگی نہیں کرسکیں گے انہیں مفت گھر دیے جائیں گے۔

عوامی تحریک کے احتجاج میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد نظر آئی۔ طاہر القادری نے اپنے مجوزہ نظام میں خواتین اور اقلیتوں کا کوئی ذکر یا یقین دہانی نہیں کرائی۔

اسی بارے میں