پشاور: مسجد کے باہر خودکش دھماکہ، چار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دھماکے میں حکام کے مطابق آٹھ سے دس کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک مسجد کے باہر خودکش دھماکے میں چار افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکہ اتوار کو طہماس خان سٹیڈیم کے گیٹ پر واقع مسجد کے دروازے کے باہر ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی عمر 20 سے 22 سال کے درمیان تھی۔

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس نجیب الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ خود کش حملہ آور ایک آئی ڈی پی کے حلیے میں سٹیڈیم میں داخل ہوا تھا اور اس کا ممکنہ ہدف خیبر ایجنسی کے وہ ’آئی ڈی پیز‘ تھے جو واپس اپنے آبائی علاقوں کو جا رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے سٹیڈیم میں داخل ہونے کے بعد فائرنگ کی جس سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور پھر خود کش حملہ آور نے گیٹ کے قریب مسجد کے سامنے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پشاور میں اس سال کل پانچ خودکش دھماکوں میں میں 33 افراد ہلاک ہوئے ہیں

اس دھماکے میں حکام کے مطابق آٹھ سے دس کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا اور زخمی ہونے والوں میں ایک بچہ اور ایف سی کا اہلکار بھی شامل ہے۔

پشاور میں آخری خود کش حملہ وسط مارچ میں سربند کے علاقے میں ہوا تھا جس کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات اور طالبان کی جانب سے جنگ بندی کی وجہ سے حالات معمول کے مط\ابق رہے تھے۔

پشاور میں اس سال کل پانچ خود کش دھماکے ہو چکے ہیں جن میں 33 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ کے متاثرین کی واپسی کا دوسرا مرحلہ منگل کے روز سے کوہاٹ اور کرم ایجنسی سے شروع ہوا تھا جبکہ پشاور سے واپسی کا سلسلہ سنیچر کو شروع ہوا ہے ۔

وادی تیراہ کے میدان اور باغ کے علاقے کے تقریباً سات ہزار سے زیادہ خاندان گزشتہ سال مارچ میں فوجی آپریشن کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کے آبائی علاقے کو اب محفوظ قرار دیا جا چکا ہے اس لیے ان کی واپسی شروع کر دی گئی ہے اور یہ مرحلہ اس سال جون میں مکمل کر لیا جائے گا ۔

اسی بارے میں