اس ’پارٹی‘ کے بعد پی ٹی آئی ایک پارٹی بنے گی؟

پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا اور احتجاج صرف وہیں تک محدود نہیں بلکہ زمان و مکان کی قید سے آزاد سوشل میڈیا پر بھی حاوی ہے۔

اگر پاکستانی ٹوئٹر کو دیکھیں تو اس پر اس حوالے سے تین ٹرینڈز موجود ہیں جن میں سے پہلا ٹرینڈ پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے موضوع پر جو PTI4ElectionReform ہے جبکہ سونامی کا لفظ بھی پہلے دس ٹرینڈز میں شامل ہے۔

اگر آپ ان دونوں ٹرینڈز کی ٹویٹس پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ سب ایک منظم طریقے سے کیا جا رہا ہے اور اس میں غالب اکثریت پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ہے جو کہ ان کی پروفائل کی تصاویر سے ظاہر ہے جس پر اس احتجاج کے لیے بنایا گیا پی ٹی آئی کا بینر دکھائی دیتا ہے۔

ان ہزاروں ٹویٹس میں سے ایسی ٹویٹس تلاش کرنا جو اس مضمون میں شامل کی جا سکیں بھوسے کے ڈھیر میں سے سوئی تلاش کرنے کے مترادف تھا۔

جہاں ایک طرف مسلم لیگ نواز کی قیادت اور وزرا کے بارے میں بدکلامی کی جا رہی تھی وہیں طعنے اور لعنت ملامت اس قدر تھی کہ الامان الحفیظ۔

جہاں ایک کارکن اسد خان وزیرِ اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کو مخاطب کر کے ’کرسیاں گننے‘ کی دعوت دیتے دکھائی دیے تو وہیں رافع نے ٹویٹ کی کہ ’اب بھی پی ٹی آئی کی حمایت نہیں کرتے ہیں آپ؟ کتنے سنگ دل ہیں آپ‘۔

بہت تگ و دو اور مشقت کے بعد مجھے حماد صدیقی کی یہ ٹویٹ ملی جس سے اس احتجاج کے بارے میں رائے سامنے آئی ’اگلے انتخابات میں دھاندلی سے یقینی بچاؤ کے سب سے بڑا قدم یہ ہے کہ انگوٹھے کے نشان اور ڈیجیٹل بیلیٹ کی سہولت متعارف کروائی جائے‘۔

اس سب کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کی انٹرنیشنل میڈیا کوارڈینیٹر انیلا خواجہ نے اپنی ٹویٹ میں خبردار کیا اور یادہانی کروائی کہ ’ہم پرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں اور سب کی عزت کرتے ہیں، براہِ کرم ہمارے کارکنوں کو مشتعل نہ کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پی ٹی آئی کی انٹرنیشنل میڈیا کوارڈینیٹر کی جانب سے ٹوئٹر پر یادہانی

جب اس حوالے سے ڈان کے میگزین ایڈیٹر ضرار کھوڑو سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے پاس ان نوجوانوں کی صورت میں توانائی کا ایک ذخیرہ ہے مگر یہ ذخیرہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے تو بہتر ہوتا اگر اس کو اپنی اصلاحات کے پروگرام پر عملدرآمد کے لیے استعمال کیا جاتا تو بہتر تھا۔‘

ضرار کھوڑو کا کہنا تھا کہ ’اتنے بڑے پیمانے پر انتخابی اصلاحات کے لیے احتجاج اس وقت کرنا سمجھ سے بالاتر ہے بلکہ اپنے کارکنوں کی توانائیوں کو ضائع کرنے کی بات ہے کیونکہ اگر یہ سب کچھ اگلے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل کیا جاتا تو اس کا اثر بھی پڑتا کیونکہ بات تو ٹھیک کی جا رہی ہے۔‘

موضوع جتنا سنجیدہ ہو پاکستانی ٹوئٹر پر حسِ مزاح نظر آ ہی جاتی ہے جیسا کہ محسن حجازی نے طاہر القادری کے اس احتجاج میں ساتھ دینے پر تبصرہ کچھ یوں کیا ’ قادری صاحب کینیڈا سے بلیو ٹوتھ کے ذریعے نظام بدلنا چاہ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ کھربوں کے اجتماع میں قادری صاحب موجود نہیں، اتنی جگہ ہی نہ بچ پائی کہ ایک اور آدمی شمولیت اختیار کرے۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Saqib Farooq
Image caption جیو کے خلاف ٹویٹس اور تبصرے بھی اسی دھرنے اور احتجاج کا حصہ نظر آئے

اور اس کے ساتھ ہی پاکستان میں اسی حوالے سے ٹرینڈ کرنے والے موضوعات میں یہ بھی تھا ThingsYouCanExpectAtPTIdharna جس کا مطلب ہے پی ٹی آئی کے دھرنے میں کیا توقع کی جاسکتی ہے جس کے بارے میں اب کیا لکھا جائے آپ اس لنک پر کلک کر کے خود ہی پڑھ لیں۔

اور ہاں ان ساری ٹویٹس میں جگہ جگہ جیو کے خلاف نفرت کا اظہار بھی نظر آیا چاہے وہ حاضرین کی تعداد پر جیو کے اندازوں پر ہو یا جیو کے تبصروں پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے جوابات مگر بہت سوں کے بقول اس ’پارٹی‘ کے بعد کیا پی ٹی آئی ایک پارٹی بن پائے گی یا یہ ’احتجاجی موڈ آن رہے گا؟‘

اسی بارے میں