پاک ایران گیس پائپ لائن کی نئی تجاویز

نواز شریف اور ایرانی صدر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اور ایران کے صدر حسن روحانی کے درمیان ظہرانے پرمختصر ملاقات ہوئی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اتوار کے روز اپنے دو روزہ دورے پر ایران پہنچے ہیں جہاں انھوں نے ایرانی صدر سے مختصر ملاقات کی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ گیس پائپ لائن معاہدے کے بارے میں نئے تجاویز پیش کریں گے۔

نواز شریف اور ایران کے صدر حسن روحانی کے درمیان یہ مختصر ملاقات ظہرانے پر ہوئی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ امور اور اقتصادی تعاون میں توسیع پر تفصلی مذاکرات بھی ہوں گے۔

پاکستانی وزیراعظم ایران کے دوروزہ دورے پر ہیں اور ان کے ساتھ ان کے سینئر مشیر بھی ہیں۔ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اُن پانچ ایرانی فوجیوں کے اغوا کے باعث ہی کشیدگی نہیں جنھیں انتہا پسندوں نے گذشتہ فروری میں اغوا کر لیا تھا۔ ان ہمسایہ ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن کے منصوبے کے معاملے پر بھی کشیدگی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی سابق حکومت نے اپنے آخری دنوں میں ایران سے اس گیس پائپ لائن کے منصوبے پر دستخط کر دیے تھے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت خارجہ امور اور عالمی صورتِ حال کے باعث اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں دشواری محسوس کر رہی ہے۔

مغویوں میں چار ایرانی فوجی دو ماہ بعد گھر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں اغوا کرے کے سرحد پار یعنی پاکستانی علاقے میں لے جایا گیا لیکن پاکستان کی حکومت اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔

پانچویں مغوی ایرانی فوجی کی قسمت کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں اغوا کاروں کا دعویٰ ہے کہ اُسے ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم اس دعوے کی سرکاری تصدیق ابھی ہونا باقی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی زیادہ بڑی وجہ اسلام آباد کا گذشتہ فروری کیا جانے والا یہ اعلان بھی ہے کہ ایرانی گیس کی برآمد کے لیے ساڑھے سات ارب امریکی ڈالر کے پائپ لائن منصوبے پر کام معطل کیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے پر ایران کے حصے پر کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور تہران توقع کرتا ہے کہ پاکستان اپنے حصے کا کام جلد از جلد مکمل کرے گا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ایرانی صدر سے قبل ایران کے اوّل نائب صدر اسحاق جہانگیری سے ملاقات کی اور کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا ’دونوں ملک تمام رکاوٹوں کو دور کرنے اور تمام امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے سنجیدہ نیّت اور ارادے رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے اس سلسلے میں اسمگلنگ کی روک تھام اور تجارت کو ترقی دینے کے لیے طویل مشترکہ سرحد پر مشترکہ سرحدی منڈیاں بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کے بارے میں وہ نئی تجاویز پیش کریں گے اور پاکستان تیل و گیس کے شعبے میں ایران سے کثیرالجہت تعاون کا خیر مقدم کرے گا۔

اسی بارے میں