’سالانہ پانچ ہزار ہندو پاکستان چھوڑنے پر مجبور‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارچ میں لاڑکانہ میں مبینہ طور پر مقدس اوراق کی بےحرمتی کے ردعمل میں ہندو دھرم شالا کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا

پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا ہے کہ ملک میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص محفوظ نہیں ہے، اور حکومت اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور ان کی مذہبی کتابوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ اور سندھ سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے قومی اسمبلی میں ملک میں امن وامان کی صورتحال پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب، کسی اور مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ہر مذہب دوسرے مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے۔ لیکن چند دن قبل صوبہ سندھ کے علاقے شکارپور میں نامعلوم افراد نے ہندوؤں کی ایک مذہبی کتاب کو آگ لگا کر اس کی بے حرمتی کی۔

’پاکستان میں مذہبی آزادی پر قدغنیں‘

’اس طرح گذشتہ دو ماہ کے دوران سندھ کے مختلف شہروں میں صرف ہندو مذہب کی چھ کتابوں اور عبادت گاہوں کو نذرِ آتش کیا گیا لیکن آج تک ان واقعات میں ملوث کوئی شخص گرفتار ہوا اور نہ ہی حکومت نے کسی گروہ کے خلاف کوئی اقدام اٹھایا ہے۔‘

ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا: ’ملک کا آئین تمام مذاہب اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن اس پر عمل نہ ہونے کے باعث ہر سال پانچ ہزار کے قریب ہندو برادری کے افراد پاکستان چھوڑ کر دوسرے ممالک میں آباد ہونے پر مجبور ہیں۔‘

انھوں نے ایوان کو بتایا کہ ’گذشتہ کئی سالوں سے بعض انتہا پسند گروہ سندھ میں شادی شدہ عورتوں اور غیر شادی شدہ ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے زبردستی ان سے مذہب تبدیل کروانے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور کئی خواتین مذہب تبدیل کرنے کے بعد زبردستی شادی کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔‘

اقلیتی رکن نے کہا کہ جس طرح بلوچستان کے علاقے زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی جلانے کے واقعے پر قومی اسمبلی میں چار دن تک بحث ہوتی رہی، اس طرح ہندوؤں کی مذہبی کتابوں اور عبادت گاہوں کو نذرآتش کیے جانے اور دیگر مظالم کے خلاف بھی ایوان میں بحث کے لیے خصوصی وقت مختص کیا جائے۔

اس موقعے پر وفاقی وزیر آفتاب شیخ نے سندھ میں رونما ہونے والے ان واقعات پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں اور ان کی بچیوں کو تحفظ فراہم کرے۔

انھوں نے کہا کہ آئین بلا رنگ و نسل و عقیدہ تمام پاکستانیوں کے تحفظ کا ضامن ہے اور موجودہ حکومت آئین پر عمل کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صوبہ سندھ میں ہندوؤں کی بڑی تعداد آباد ہے اور وہاں ہندو لڑکیوں کا مذہب زبردستی تبدیل کرانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں

اس سے قبل اپنے خطاب میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شازیہ مری نے کہا کہ ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے اور وفاق کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ امن وامان صوبائی مسئلہ ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ یعقوب نے کراچی میں سینیئر صحافی حامد میر پر ہونے والے حملے کا ذکر کیا اور کہا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران صرف کراچی جیسے بڑے صنعتی اور کاروباری شہر میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد سمیت کم و بیش 35 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں پولیس، صحافی، ڈاکٹر، وکیل، سیاسی کارکن اوراقلیت کے لوگ محفوظ نہ ہوں تو وہ معاشرہ نہ تو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہاں جمہوریت پروان چڑھ سکتی ہے۔

اسی بارے میں