قومی اسمبلی سے ایم کیو ایم کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم نے الزام لگایا کہ الطاف حسین کے پاسپورٹ کے معاملے میں تاخیر برتی جا رہی ہے

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری نہ کرنے کے خلاف ایم کیوایم کے ارکان نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

تاہم بعد میں حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ایم کیوایم کے سربراہ کو جلد پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کیا جائےگا۔

یہ یقین دہانی وفاقی وزیر بلیغ الرحمان نے منگل کے روز ایم کیوایم کی جانب سے سخت احتجاج کے بعدکرائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین کو پاسپورٹ جاری کرنے کے لیے جوڈیٹا یا اعداد وشمارحاصل کیے تھے وہ بعض تکنیکی کمزوریوں کے باعث کمپیوٹر پر صیح طریقے سے اپ لوڈ نہ ہوسکے۔ جس کے باعث الطاف حسین کو پاسپورٹ جاری کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔

اس سے قبل پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے ایم کیوایم کے رکن عبدالرشیدگوڈیل نے کہا کہ الطاف حسین نے وطن واپسی کی خاطر لندن میں پاکستانی سفارتخانے کو پارسپورٹ کے حصول کے لیے چار اپریل کو درخواست دی تھی اور سترہ اپریل کو وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بھی اس کی تصدیق کی کہ الطاف حسین کی دستاویزات جمع ہونے کے بعد وزارت داخلہ کوارسال کردیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ بڑے عرصے سے یہاں کے لوگ اورسیاست دان تنقید کررہے تھے کہ الطاف حسین پاکستان کیوں نہیں آ رہے ہیں۔ اب جبکہ الطاف حسین نے پارسپورٹ کے لیے درخواست دی توانھیں لندن میں پاکستانی سفارتخانے نے بتایا کہ پہلے آپ شناختی کارڈ بنالیں۔ جس کے لیے پاکستانی سفیر واجدالحسن کے کہنے پر نادرا کے کارکنوں نے تمام اعداد وشمار اور دستاویزات جمع کرکے فارم بھرنے کا ٹوکن بھی جاری کیا۔

گوڈیل نے بتایا کہ پیر کو وزارت داخلہ نے کہا کہ ان کے پاس الطاف حسین کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے وہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے دوبارہ تمام دستاویزات جمع کرادیں۔ نادرا کے جن کارکنوں نے الطاف حسین کے گھرجاکران سے معلومات حاصل کی تھیں اس عملے کا بھی پاکستان تبادلہ کردیاگیا۔

جبکہ برطانیہ میں نادرا کی ویب سائٹ پر واضع لکھا ہے کہ جوشخص بیمار ہو اور اسے شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کی ضرورت ہو تونادرا کا عملہ خود متعلقہ شخص کے گھرجاکر ان سے معلومات اکٹھی کرسکتا ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ کہ وزارت داخلہ کے بعد ذمہ دار افراد ہٹ دھرمی کامظاہرہ کر کے الطاف حسین کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے جاری کرنے کے لیے تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا کہ الطاف حسین ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے کئی سال قبل کراچی سے پاکستانی پاسپورٹ پر ہی لندن گئے تھے۔انھوں نے کہا کہ اختلافات اپنی جگہ پر لیکن ایک شہری کی حیثیت سے انھیں بارہ گھنٹے کے اندرپارسپورٹ اورشناختی کارڈ دیا جانا چاہئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الطاف حسین نے برطانوی شہریت اختیار کر رکھی ہے

تحریک انصاف کے رکن شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کی جماعت اور ایم کیوایم کے درمیان نظریاتی اختلاف موجود ہے اور کراچی میں دونوں جماعتوں کے درمیان حالات کشیدہ رہے ہیں ۔

لیکن کچھ نادان دوست حکومت کو غلط مشورہ دے رہے ہیں کہ اس مسئلے کوالـجھا کرمشکل بنایا جائے۔ جس پرایم کیوایم نے کراچی بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ انھوں نے حکومت اور وزارت داخلہ سے اپیل کی الطاف حسین کو پاسپورٹ جاری کیا جائے کیونکہ یہ ان کا قانونی حق ہے۔

حکومتی رکن شیخ روحیل آصف نے کہا کہ حکومت نے کوئی مسئلہ نہیں بنایا ہے بلکہ الطاف حسین نے خود اپنی پاکستانی شہریت ختم کرکے برطانوی شہریت حاصل کی تھی اور دوبارہ انھیں شہریت دینے کے لیےتمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے جس میں وقت تولگے گا اس پر جذباتی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

وفاقی وزیر بلیغ الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم، وزراء سب پاسپورٹ کے حصول کے لیے خود پاسپورٹ آفس چلے جاتے ہیں۔ لیکن برطانیہ میں واجد شمس الحسن نے ان قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئےعملے کوالطاف حسین کا ڈیٹاحاصل کرنے کے ان کے گھر بھیجا تھا۔ وہ ڈیٹا ایک ماہ تک قابل عمل ہوتا ہے لیکن ایک ماہ گذرنے کے بعد بھی پورا ڈیٹا اپ لوڈ نہیں ہوسکا۔

اس بارے میں الطاف حسین سے گذارش کی گئی ہے کہ وہ لندن میں پاکستانی پارسپورٹ آفس آکردوبارہ اپنا ڈیٹا دیں تاکہ اس سے بہتر طریقے سے اپ لوڈ کرکے انھیں پارسپورٹ جاری کیا جاسکے۔ انھوں نے بتایا کہا کہ حکومت کو پاسپورٹ جاری کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

اسی بارے میں