توہینِ مذہب کا قانون ہر مذہب کی تضحیک پر لاگو ہوتا ہے:چیف جسٹس

Image caption عدالت اقلیتوں کے تحفظات سے اتفاق کرتی ہے:جسٹس تصدق جیلانی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ ملکی قانون کے مطابق کسی بھی مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

منگل کو پشاور میں گرجا گھر پر حملے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں ازِخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ توہینِ مذہب کا قانون ہر مذہب کی تضحیک پر لاگو ہوتا ہے۔

’سالانہ پانچ ہزار ہندو پاکستان چھوڑنے پر مجبور‘

پاکستان کی سرکار خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق جسٹس تصدق جیلانی نے سماعت کے آغاز پر صوبہ سندھ میں مندروں کو نذرِ آتش کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج نہ کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔

چیف جسٹس نے اقلیتوں کے نمائندوں کو حکم دیا کہ وہ اقلیتوں کے خلاف مواد کے استعمال کے واقعات کے بارے میں رپورٹ پیش کریں اور یہ بھی بتائیں کہ کب کب قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت اقلیتوں کے تحفظات سے اتفاق کرتی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی فورس کے قیام کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارچ میں لاڑکانہ میں مبینہ طور پر مقدس اوراق کی بےحرمتی کے ردعمل میں ہندو دھرم شالا کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا

اس موقع پر اقلیتی رہنما ڈاکٹر رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران ہندوؤں کے چھ مندروں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے لیکن ان واقعات کے ذمہ داران ابھی تک نہیں پکڑے گئے۔

انھوں نے کہا کہ ان چھ میں سے چار واقعات توہینِ مذہب کے قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔

اس پر سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی علی شیر جاکھرانی نے بتایا کہ پولیس نے اقلیتوں پر تشدد کے پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے تاہم ان کے خلاف توہینِ مذہب کے قانون کے تحت مقدمہ نہیں درج کیا گیا۔

اس پر چیف جسٹس نے سندھ پولیس کے آئی جی کو ایک ہفتے میں اس بارے میں مفصل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں