سندھ میں خسرے سے 48 ہلاکتوں کا ازخود نوٹس

Image caption سندھ میں 2010 اور 2011 میں آنے والے سیلاب اور بارشوں سے ٹھٹہ، سجاول اور بدین کے اضلاع متاثر ہوئے تھے

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر نے ٹھٹہ اور سجاول اضلاع میں خسرے سے 48 بچوں کی ہلاکت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکام سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل ذوالفقار لانگاہ نے چیف جسٹس مقبول باقر کو ایک خط تحریر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ٹھٹہ اور سجاول میں گذشتہ 20 روز میں 48 بچے خسرے کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، جو اس کی بنیادی قانونی اور آئینی ذمے داری ہے۔

چیف جسٹس مقبول باقر نے اس درخواست کو آئینی درخواست میں تبدیل کر کے سندھ کے چیف سیکریٹری، صوبائی سیکریٹری صحت اور محکمۂ صحت کے ضلعی افسران کو بدھ کو طلب کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے تھر میں خوراک کی کمی کے باعث بچوں کی ہلاکتوں کا بھی سندھ ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا، جس کے بعد سندھ کی صوبائی اور وفاقی حکومت نے امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

سندھ میں 2010 اور 2011 کے سیلاب اور بارشوں سے ٹھٹہ، سجاول اور بدین کے اضلاع متاثر ہوئے تھے۔

غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ قدرتی آفتوں کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے وہ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں