ڈی آئی خان سے نجی کمپنی کے تین کارکن اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ مغویوں کو کس جانب لے جایا گیا تاہم پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے درابن کے علاقے میں ایک ٹول پلازا سے نجی کمپنی کے تین کارکنوں کو اغوا کر لیا ہے۔

یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ڈیرہ ژوب روڈ پر درابن اور نیم قبائلی علاقے درازندہ کے درمیان واقع ٹول پلازا پر پیش آیا۔ یہ ٹول پلازا نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا ہے لیکن پولیس کے مطابق وہاں ایک نجی کمپنی کے ٹھیکیدار کے کارکن موجود تھے۔

درابن پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ رات کے وقت جب کارکن سو رہے تھے تو اس دوران چھ سے سات مسلح نامعلوم افراد تینوں کارکنوں کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔ مغویوں میں ارشاد سکیورٹی گارڈ اور ٹول آپریٹرز محمد ظریف اور محمد ارسلان شامل ہیں۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مغویوں کو کس جانب لے جایا گیا ہے تاہم پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ درابن کے علاقے سے فروری کے مہینے میں دیسی ادویات کا کاروبار کرنے والے دو سکھ نوجوانوں کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا جنھیں کوئی ایک ماہ بعد مارچ میں بازیاب کیا گیا تھا۔

سوندر سنگھ اور آنند سنگھ پشاور کے رہائشی تھے اور انھیں شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی سے بازیاب کیا گیا تھا۔

درابن روڈ پر اغوا کے علاوہ اکثر شدت پسندی کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں، جبکہ اسی علاقے میں پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف بڑی کارروائیاں بھی کی ہیں جن میں جرائم پیشہ افراد کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں