خیبر ایجنسی سے متصل علاقے میں ڈرون حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ MoD US Government
Image caption حکومتِ پاکستان نے امریکہ سے کئی بار شکایت کی ہے کہ ڈرون حملے ملک کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں بدھ کی صبح کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ہے تاہم سرحد کے پار سے ایسے ایک حملے میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ سرحد کے قریب افغانستان کے صوبے ننگرہار کے علاقے نازیان میں ہوا ہے۔

ان کے مطابق نازیان کے دو دیہات نخترناؤ اور چرچنڈوں کنڈاؤ میں ایک شدت پسند تنظیم اماراتِ اسلامی کے مراکز ہیں اور اس ڈرون حملے میں ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس ڈرون حملے میں تین راکٹ داغے گئے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں کچھ عرصے سے ڈرون حملوں کا سلسلہ رکا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کی ایک وجہ حکومتِ پاکستان اور تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکراتی عمل کو موقع دینا ہے۔ تاہم وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ سرتاج عزیز کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے طالبان سے مذاکرات کے لیے کسی مفاہمت کے تحت یا سہولت کے طور پر بند نہیں کیے۔

بی بی سی اردو سے خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے جب امریکہ کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے اس وقت امریکی صدر براک اوباما کو ڈرون حملوں کے بے سود ہونے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

ادھر اس سال مارچ میں اقوام متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل نے ڈرون طیاروں کے بارے میں پاکستان کی قرارداد منظور کرتے ہوئے دنیا کے تمام ملکوں پر زور دیا تھا کہ وہ بغیر پائلٹ والے ڈرون طیاروں کے استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔

ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بہت عرصے سے متنازع ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے کئی بار یہ شکایت کی جا چکی ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

اسی بارے میں