دو بھارتی صحافیوں کو 20 مئی تک ملک چھوڑنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وال سٹریٹ جرنل کے مطابق دونوں بھارتی صحافیوں کو جمعرات کے روز مطلع کیا گیا کہ ان کے ویزوں کی تجدید نہیں کی جائے گی

پاکستانی حکام نے اسلام آباد میں مقیم دو بھارتی صحافیوں کو ان کے ویزوں کی تجدید نہ کرنے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے 20 مئی تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم بھارتی اخبار دی ہندو کی نمائندہ مینا مینن اور بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سنیش فلپ کو یہ احکامات 13 مئی کو تحریری طور پر دیے گئے ہیں۔

دی ہندو اخبار کی مینا مینن نے کہا کہ ان کو تحریری احکامات 13 مئی کو ملے تھے۔

مینا مینن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ آٹھ مئی کو ان کو اور بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سنیش فلپ کو فون کر کے بتایا گیا تھا کہ ان کے ویزوں کی تجدید نہیں کی جا رہی۔

’ہم دونوں کو یہ احکامات وزارتِ اطلاعات کے محکمہ ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر الطاف حسین کی جانب سے دیے گئے تھے۔‘

مینا مینن نے بتایا کہ ہم دونوں کو زبانی بتایا گیا کہ ایک ہفتے کے اندر ملک چھوڑ دیں اور ان کو’ یہ احکامات تحریری شکل میں آج (آٹھ مئی) ہی کو مل جائیں گے‘۔

’ہم دونوں کو بعد کہاگیا کہ تحریری احکامات جمعے تک مل جائیں گے اور پھر بتایا گیا کہ ہفتے کے روز مل جائیں گے۔‘

تحریری احکامات میں کہا گیا ہے کہ ’متعلقہ حکام نے آپ کی جانب سے مارچ میں دی جانے والی ویزے میں تجدید کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ آپ کو پاکستان چھوڑنے کے لیے سات روز دیے جاتے ہیں یعنی 20 مئی تک۔‘

وزارتِ اطلاعات کے محکمہ ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ وہ ملک چھوڑنے کے ضمن میں حکام کو اپنی سفری تفصیلات سے بھی آگاہ کریں۔

یاد رہے کہ دی ہندو کی نمائندہ مینا مینن اور بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سنیش فلپ اگست 2013 میں پاکستان آئے تھے۔

ان کے ویزے کی مدت نو مارچ 2014 تک تھی اور انھوں نے اپنے ویزوں کی تجدید کی درخواستیں جمع کروائی تھیں۔

واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز کے اسلام آباد کے سابق بیورو چیف ڈیکلن والش کو مئی 2013 کے انتخابات کے موقع پر نگران حکومت نے ’ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزامات پر پاکستان بدر کر دیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ کے مطابق ڈیکلن والش کو پولیس نے وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک دو سطری خط لا کر دیا جس میں صرف اتنا لکھا ہوا تھا: ’آپ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ آپ کی ناپسندیدہ سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ 72 گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑ دیں۔‘