کراچی آپریشن: شکایات کے ازالے کے لیے کمیٹی کا اعلان

Image caption امن وامان کے قیام کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہونا پڑے ہوگا: نواز شریف

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں اور شکایات کو دور کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ آرمی چیف نے حکومت کو دیانت دارانہ اور مخلصانہ مدد دینے کا یقین دلایا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے تحریری بیان کے مطابق بدھ کو ملک کے سول، فوجی، سیاسی اور انتظامی حکام نے کراچی میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس میں شرکت کی۔

اس اعلیٰ سطح اجلاس میں صوبہ سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری نے خصوصی شرکت کی جبکہ آئی ایس آئی اور انٹیلی جینس بیورو کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی رینجرز بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔

اس اجلاس میں ایم کیو ایم، اے این پی اور جماعت اسلامی کے اراکین بھی موجود تھے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ کراچی میں آپریشن تمام سیاسی جماعتوں اور فریقین کی رضامندی سے شروع ہوا تھا اور ان مسائل کا مشترکہ حل ہی واحد راستہ ہے۔

نواز شریف نے اجلاس کے شرکا کو یقین دلایا کہ شدت پسندوں اور انتہاپسندوں کی جانب سے جوابی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہرممکن مدد کرے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امن وامان کے قیام کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہونا پڑے ہوگا۔

انھوں نے کراچی کے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے سندھ پولیس میں ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو شامل کرنے کے فیصلے کو بھی مثبت قرار دیا۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ فوج سو فیصد دیانت داری کے ساتھ کراچی کے مسئلے کے حل کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومت کو ہر قسم کی مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

فوج کے سربراہ نے سول قیادت کو یقین دلایا کہ’ ہم سے جب بھی کہا کیا گیا ہم دیانت دارانہ رائے اور مدد دیں گے۔‘انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی تعیناتیاں اور تبادلے غیر سیاسی بنیادوں پر ہونے چاہیے۔

جنرل راحیل شریف نے صوبے کی پولیس کو جدید سازوسامان اور سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی پولیس کو جدید ہتھیاروں اور سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر بات کی اور کہا کہ کراچی میں امن کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی مدد کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی ۔ انھوں نے بتایا کہ 7 لاکھ غیرقانونی سموں کو بلاک کیا گیا ہے جبکہ تھری جی ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید غیرقانونی سمز کے خلاف کارروائی ہو سکے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے گذشتہ سال چار ستمبر کو کراچی میں رینجرز کی سربراہی میں ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو تاحال جاری ہے۔

اسی بارے میں