’میٹرو منصوبے سے قدرتی ماحول کو خطرہ نہیں‘

لاہور میٹرو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور میں سات لاکھ افراد روزانہ میٹروبس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں

حکومت نے کہا ہے کہ وزارت تحفظ ماحولیات کی پیشگی منظوری کے بعد راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس منصوبے پر کام کا آغاز کیا گیا ہے جسے اس سال کے آخر تک مکمل کر لیا جائےگا۔

یہ بات وفاقی وزیر شیخ آفتاب نے بدھ کو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں کہی۔

خاتون رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ میٹرو بس منصوبے سے اسلام آباد کے قدرتی ماحول کو خطرہ لاحق ہے اور حکومت نے تحفظ ماحولیات پاکستان سے اجازت لیے بغیر اس منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔

جواب میں وفاقی وزیر شیخ آفتاب نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد دونوں شہروں کے غریب عوام کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولت فراہم کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ منصوبے سے بڑی گاڑی والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے شاہد یہی وجہ ہے کہ اس عوامی منصوبے کی مخالفت کی جا رہی ہے جبکہ اس سے ان لوگوں کوفائدہ ہوگا جو آج بھی ایک جگہ سے دوسرے شہر جانے کے لیے چار یا پانچ مقامات پر پبلک ٹرانسپورٹ (بسوں اور ویگنوں ) میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تین مئی کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں تحفظ ماحولیات پاکستان کے ماہرین نے شرکت کی اور انہوں نے تصدیق کی کہ میٹرو بس منصوبے سے اسلام آباد کا قدرتی حُسن اور ماحول زیادہ متاثر نہیں ہوگا۔ بعد میں محکمۂ تحفظ ماحولیات نے کام شروع کرنے کے لیے (این او سی) بھی جاری کیا۔

لیکن ڈاکٹرنفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ 40 ارب روپے کی خطیر رقم اس منصوبے پر خرچ کی جا رہی ہے۔ جبکہ لاہور کے ایک کروڑ کے مقابلے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کی کل آبادی 22 لاکھ سے بھی کم ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ یہ منصوبہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) اسلام آباد کو دینے کی بجائے صوبہ پنجاب حکومت کے زیر انتظام راولپنڈی ڈویلپمینٹ اتھارٹی کو اس لیے دیاگیا کیونکہ وہاں وزیراعظم کے بھائی میاں شہباز شریف کی حکومت ہے۔

وفاقی وزیرآفتاب شیخ نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں موجودہ حکومت کی ترقیاتی منصوبوں سے خوفزدہ ہیں کیونکہ انھیں خوف ہے کہ اگر یہ منصوبے بروقت مکمل ہوئے تو آئندہ پانچ سال کے لیے ایک بار پھر نوازشریف کی قیادت میں حکومت بن جائےگی۔

انھوں نےکہا کہ حزب اختلاف کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ موجودہ حکومت میٹرو بس سمیت کراچی لاہور موٹروے، گوادر لِنک روڈ سمیت بہت سارے ترقیاتی منصوبے آئندہ چار سال میں مکمل کر کے دے گی۔

اس دوران پیپلز پارٹی کے ایک اور رکن اعجاز جھلکرانی نے کہا کہ منصوبے کے دوران اسلام آباد میں سات ہزار درخت کاٹنے کاخطرہ ہے جس کے بارے میں متعلقہ محکمے نے حکومت سے اس سلسلے میں بارہ وضاحتیں طلب کر رکھی ہیں لیکن حکومت نے تاحال کسی ایک کا جواب نہیں دیاہے۔

سابق وفاقی وزیر قدرتی وسائل نوید قمر نےاس موقع پر کہا کہ سویڈن کی ایک تعمیراتی کمپنی نے 25 فیصد کم قیمت میں بسیں فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ لیکن حکومت پنجاب نےدوستی نبھاتے ہوئے بسوں کی خریداری ترکی کی ایک اور کمپنی کے حوالے کر دی ہے۔

جبکہ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے خوشگوار انداز میں کہا کہ منصوے میں جو لوہا استعمال ہو رہا ہے وہ تو لوہا ہے چاہے وہ سٹیل مل سے خریدا گیا ہو یا اتفاق فاؤنڈری سے لایاگیا ہو۔اس طرح ملک کے کارخانے بھی چلانے ہیں۔

اسی بارے میں