تحفظ پاکستان آرڈیننس میں توسیع، اپوزیشن کا واک آؤٹ

Image caption قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے سید خورشید شاہ کی قیادت میں ایوان سے واک آؤٹ کیا

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود حکومتی جماعت مسلم لیگ ن اور ان کی اتحادی جماعتوں نے ملک میں نافذ العمل تحفظ پاکستان آرڈیننس کے نفاذ میں مزید چار ماہ کی توسیع کر دی ہے جو 22 مئی سے قابلِ عمل ہوگی۔

وزارت داخلہ و انسداد دہشت گردی کی جانب سے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے بدھ کو قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس میں مزید 120 دن کی توسیع کی جائے کیونکہ پہلےسے نافذ العمل اس آرڈیننس کی مدت رواں ماہ کی 21 تاریخ کو ختم ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے پی پی او میں بعض ترامیم کر کے اسے قومی اسمبلی سے پاس کروایا تھا اور منظوری کے لیے جب سینیٹ کو بھجوایا تو وہاں بھی حکومت نے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے حزب اختلاف سےمزید ترامیم طلب کیں۔

انھوں نے کہا کہ صرف ایم کیو ایم کےسینیٹر طاہرحسین مشہدی کی جانب سے بعض ترامیم حکومت کو ملی ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق کی جانب سے ترامیم آنے کا انتظار ہے تاکہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کو سینیٹ میں اتفاق رائے سے پاس کر کے قانون کاحصہ بنایا جا سکے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو داخلی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک ایسی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس کے تحت لوگوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ جب حکومت نے منظوری کے لیے پی پی او قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا تو حزب اختلاف کی اکثر جماعتوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اس آرڈیننس کو پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جائے۔

لیکن حکومت نے جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہنگامی اجلاس میں حزب اختلاف کی سخت تنقید کے باوجود اسے قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا تھا۔ البتہ سینیٹ میں پی پی او کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔

جس کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کرکے یقین دہانی کروائی تھی کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے حکومت نے کمیٹی قائم کر دی ہے، اور جب تک مذکورہ کمیٹی کی رپورٹ نہیں آتی اس وقت تک آرڈیننس کی مدت میں مزید توسیع کرنے سے گریز کیا جائے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ اس آرڈیننس کی وجہ سے آئین کی کئی شقیں نظرانداز ہو رہی ہیں۔ جس وقت پی پی او قومی اسمبلی میں پیش ہوا تواس وقت ایم کیوایم نے بہت سی ترامیم پیش کی تھیں۔اس میں سے ایک بھی ترمیم آرڈیننس میں شامل نہیں کی گئی۔

انھوں نے طالبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے لیے یہ آرڈیننس نافذ کیا گیا ہے، ان عناصر سے تو مذاکرات ہو رہے ہیں، جبکہ اس کا اصل استعمال کراچی میں ہو رہا ہے جہاں سینکڑوں لوگ اب تک اس قانون کے شکنجے میں آ چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔

جمعیت علمائے اسلام ف کی خاتون رکن محترمہ نعیمہ کشور نے ایوان کو بتایا کہ ان کی جماعت جے یوآئی ایف نے تحفظ پاکستان آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہوئے تاحال وزارتیں نہیں لی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور جمہوری منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے اب یہ آرڈیننس فیکٹری کو بند کرنا چاہیے۔ نعیمہ کشور نے تجویز پیش کی کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے اور منظوری کے لیے اس قرارداد پر زور نہ دیا جائے۔

جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ اس وقت عوام دہشت گردی، بھتہ خوری اور جرائم کا شکار ہیں، لیکن حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مذکورہ آرڈیننس بھی متنازع بن چکا ہے، جس کی وجہ سے بونیر کے علاقے میں میں پانچ دن سے کرفیو نافذ ہےاور جگہ جگہ چیک پوسٹوں کی وجہ سے عام لوگوں کو کئی کئی گھنٹوں تک سڑک پر انتظار کرنا پڑتا ہے۔

قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پی پی او میں ترامیم کے سلسلے میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے کمیٹی بنائی ہے تواس کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔ انھوں نے پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر 18ویں ترمیم اتفاق رائے سے منظور کروائی تھی۔

جس کے بعد حزب اختلاف کے ارکان نےسید خورشید شاہ کی قیادت میں احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا اور حکومتی جماعت مسلم لیگ ن اوران کی اتحادی جماعتوں کے ارکان نے حزب اختلاف کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر متفقہ طور پر کر آرڈیننس میں مزید 120 دن کی توسیع کی منظوری دی۔

اسی بارے میں