کراچی کا کنٹرول دوبئی سے؟ ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کراچی بارود کا ڈھیر بن چکا ہے جس کے لیے دہشت گرد سمندر پار سے اسلحہ سپلائی کر رہے ہیں: امیراللہ مروت

پاکستان کے وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے داخلہ نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں ملوث عزیر بلوچ کے ریڈ وارنٹ آج جاری کیے جائیں گے، جبکہ بابا لاڈلا کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے سندھ حکومت نے تاحال وفاق سے رابطہ نہیں کیا۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ مریم اورنگ زیب نے یہ بات جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے رکن سردار نیبل گبول کے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں کہی ہے۔

نبیل گبول نے کہا کہ کئی ماہ سے عزیر بلوچ اور بابا لاڈلا سمیت دیگر جرائم پیشہ افراد بیرون ملک بیٹھ کر کراچی میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بیرون ملک مقیم ان ’دہشت گردوں‘ کے خلاف تاحال کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے جس کے باعث کراچی میں امن وامان کی صورتحال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے۔

اس پر پارلیمانی سیکریٹری مریم اورنگ زیب نے کہا کہ کراچی میں قیامِ امن کے لیے تمام جرائم پیشہ افراد کے نہ صرف ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں گے بلکہ بہت سے دہشت گرد صوبائی حکومت کے تعاون سے اب تک گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔

انھوں نے ایوان کو بتایا کہ لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ اور بابا لاڈلا کے بارے میں سندھ حکومت نے اس سے قبل وزراتِ داخلہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔

البتہ بدھ کو سندھ حکومت کی جانب سے عزیر بلوچ سے متعلق ایک ریفرنس وزارتِ داخلہ کو موصول ہوا ہے جس کا قانونی جائزہ لینے کے بعد آج ان کے ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک صوبائی حکومتیں بیرونِ ملک کسی مجرم کے بارے میں وفاقی وزارتِ داخلہ کومطلع نہیں کرتیں، اس وقت تک وفاقی حکومت کو کسی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی سندھ حکومت کی جانب سے بابا لاڈلا یا اور کسی اور شخص کے بارے میں کوئی ریفرنس موصول ہوگا توان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے میں تاخیر نہیں کی جائےگی۔

اس موقعے پر ملک میں امن وامان کی صورتِ حال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکمران جماعت کے رکنِ اسمبلی قیصر احمد شیخ نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے لیکن سابقہ دور میں وہاں ٹارگٹ کلنگ میں روزانہ دس سے 15 افراد مارے جاتے تھے۔ انھوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف کی جانب سے کراچی میں قیامِ امن کے لیے کوششوں کی تعریف کی۔

انھوں نے کہا کہ اگر ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آتی ہے تو بہت سے بیرونی سرمایہ کار سرمایہ کاری کرنے کے لیے پاکستان آنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن امیراللہ مروت نے کراچی میں ممتاز صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد جیو ٹی وی نے جس انداز میں ملکی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کیا وہ قابل مذمت ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے گذشتہ روز کراچی میں امن و امان کے مسئلے پر ہونے والے اجلاس میں تمام جماعتوں کو مدعو کیا تھا لیکن تحریک انصاف کو نظرانداز کیا، حالانکہ پی ٹی آئی نے کراچی سے عام انتخابات میں آٹھ لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔

بقول امیراللہ مروت کے، کراچی اس وقت بارود کا ڈھیر بن چکا ہے جس کے لیے دہشت گرد سمندر پار سے اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ تمام دینی مدارس کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے اور ان مدارس پر پابندی لگانی چاہیے جو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

انھوں نے سعودی عرب اور ایران پر الزام عائد کیا کہ دونوں ممالک پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہیں جس سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رکن عبدالستار باچانی نے کہا کہ ان کی جماعت نے ملک میں قیام امن اور مستحکم جمہوریت کے لیے نواز شریف کو مکمل تعاون فراہم کیا ہے۔

اسی بارے میں