جیو تنازع: ملازمین کو خطرہ، صحافی منقسم

کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے والوں کا ہجوم۔ تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے والوں کا ہجوم۔

جیو ٹی وی تنازعے کے سبب صحافی ملازمین کی زندگیاں داؤ پر لگی محسوس ہونے لگی ہیں اور صحافیوں میں اختلافِ رائے پیدا ہو گیا ہے۔

اس کے مظاہرے جمعہ کو کراچی پریس کلب کے اندر اور باہر دیکھنے میں آئے۔

دوپہر کو پریس کلب کے مرکزی داخلے راستے پر پندرہ سے سترہ سال کے نوجوان جو مذہبی نعرے بلند کر رہے تھے جمع ہونا شروع ہوگئے، جنھوں نے کئی کیمرہ مینوں اور رپورٹرز سے پوچھا ’ کیا تم جیو کے ہو۔‘

ایسے ہی سوال کا جواب مجھے بھی دینا پڑا۔

صحافیوں اور ٹی وی چینلوں سے یہ پوچھنے کا سلسلہ جیو ٹی وی پر ایک پروگرام نشر ہونے کے بعد شروع ہوا ہے۔ جیو کے اس پروگرام کے خلاف کچھ فتوے بھی جاری کیےگئے اور بعض گروہوں نے احتجاج کا بھی اعلان کردیا۔

کیبل آپریٹرز ایسو سی ایشن کے چیئرمین خالد آرائین جمعے کو پریس کانفرنس کے لیے کراچی پریس کلب پہنچے تو غیر معمولی طور پر نیوز چینلز نے پریس کانفرنس کی لائیو کوریج کا بھی انتظام کر رکھا تھا۔

خالد آرائین نے ابھی پریس کانفرنس کی ابتد بھی نہیں کی تھی کہ روزنامہ جنگ کے رپورٹر سے ان کی تلخ کلامی ہوگئی۔

اس رپورٹر نے خالد آرائیں اور ان کے ساتھیوں کو مخاطب ہوکر کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کس کے کہنے پر پریس کانفرنس کی جا رہی ہے۔ اس صحافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر جیو بند ہوگیا تو کئی صحافی بیروزگار ہوجائیں گے۔

شور شرابے کے بعد خالد آرائیں اٹھ گئے اور کہا کہ وہ پریس کانفرنس نہیں کرتے، پریس کلب انتظامیہ خالد آرائیں کو کمرے سے باہر لےگئی لیکن کشیدگی برقرار رہی۔

بعد میں انہیں ایک گھیرے میں باہر نکالا گیا اس دوران پریس کلب کے نوٹس بورڈ کے شیشے ٹوٹ گئے اور گورننگ باڈی کے ایک رکن کو معمولی زخمی ہوگئے۔

کیبل آپریٹرز ایسو سی ایشن کے چیئرمین خالد آرائیں کو اس سے پہلے دو ہزار سات میں بھی صحافیوں کے سخت سوالات کا جواب دینا پڑا تھا جب ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جیو سمیت بعض چینلز کی نشریات بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

خالد آرائیں نے اپنی گاڑی میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں معلوم تھا کہ جنگ کے لوگ آئے ہیں اور انہیں پریس کانفرنس کرنے نہیں دی جائے گی۔

ان کا موقف تھا کہ جیو کی مبینہ گستاخی کے بعد کیبل آپریٹرز عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں، کئی علاقوں میں کیبل نیٹ ورک کی تاریں کاٹ دی گئی ہیں اور آپریٹرز کو دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

خالد آرائیں کا کہنا تھا کہ وہ آپریٹرز کو صرف یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ سب سے پہلے جان کا تحفظ ہے اگر وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی مشکلات نہیں ہے تو وہ جیو کی نشریات چلاسکتے ہیں۔

اس صورتحال میں صحافی بھی منقسم ہوگئے ہیں۔ کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر جی ایم جمالی کا کہنا ہے کہ جیو اور جنگ گروپ صحافیوں میں تفریق پیدا کر رہے ہیں۔ جب کہ بعض صحافیوں کا موقف ہے کہ کیبل آپریٹرز کا یہ دائرہ کار اور اختیار نہیں ہے کہ کسی چینل کی نشریات معطل کرے۔

پریس کلب میں ابھی صحافیوں کا آپس میں بحث مباحثہ جاری تھا کہ امامیہ آرگنائزیشن کی امریکہ مخالف ریلی پہنچ گئی۔ داخلی راستے پر سنی تحریک اور خارجی راستے پر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا احتجاج شروع ہوگیا اور پریس کلب محاصرے میں آگیا۔

اس احتجاج کے دوران جیو کی ڈی ایس این جی وین پر کچھ نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور اس کے شیشے توڑ دیے لیکن رہنماؤں اور صحافیوں نے مشترکہ کوششیں کر کے مشتعل لوگوں کو پیچھے کیا، جیو کے ساتھ وہاں کئی دیگر چینلز کی بھی ڈی ایس این جیز وین موجود تھیں۔

جیو اور جنگ گروپ کے کئی ملازم اس وقت تک پریس کلب میں موجود رہے جب تک یہ احتجاج اختتام پذیر نہیں ہوگئے۔اس کے بعد ادارتی شناختی کارڈ اور چینل کا شناختی نشان چھپا کر اداروں کو روانہ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے والوں کا ہجوم رہا۔

اسی بارے میں