بھارت کی نئی حکومت اور پاکستان سے تعلقات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نریندر مودی کی جیت کی وجہ ان کا معاشی پروگرام بتایا جا رہا ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نریندر مودی کو پاکستان میں اکثر ریاست گجرات میں سنہ 2002 کے مذہبی فسادات میں سینکڑوں ہلاکتوں کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو اب کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کی تنگ نظری نہیں بلکہ وزیر اعظم کی زیادہ وسیع سوچ کو لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔

اب اقتدار میں آنے کے بعد انھیں اس بارے میں اپنی شبیہ کی بہتری کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عزیز احمد خان کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے یہ ان کا ’بیگیج‘ ہے جس سے انھیں چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا: ’اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی نظریں لگی ہیں۔ امریکہ کی مثال بھی ہے جس نے ان کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔‘

پاکستان میں اگرچہ الیکٹرانک میڈیا کی حد تک بھارتی عام انتخابات کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، لیکن اس میں لوگوں کی دلچسپی ضرور رہی ہے۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری یعنی جامع مذاکرات کا سلسلہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے۔

اس کی بحالی کے لیے وادیِ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر اب بھی مڈبھیڑ کی اکا دکا خبریں آتی رہتی ہے۔ اس کے دائمی خاتمے کے لیے اور دو طرفہ تجارت میں بہتری کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟

ماضی کی تلخیاں پاکستان اور بھارت دونوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتیں۔ نصابی کُتب سے لے کر انتخابی نعروں تک ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ نہیں ملتا۔ ایسے میں پشاور یونیورسٹی کے ڈاکٹر سید حسین سہروردی جیسے ماہرین کہتے ہیں کہ تجارت کے فروغ کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

’نریندر مودی معاشی پروگرام کی وجہ سے جیتے ہیں۔ یہاں پاکستان میں بھی ایک ایسا وزیر اعظم اقتدار میں ہے جو معاشی ترقی پر زور دے رہا ہے۔ ایسے میں دونوں مل کر کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔‘

بھارت کو موسٹ فیورڈ نیشن یا ایم ایف این کا درجہ دینے کا معاملہ آج بھی پاکستان میں کہیں پھنسا ہوا ہے۔ بعض حکومتی حلقے واضح طور پر اس کے خلاف ہیں۔ تاہم تاجروں کی ملک گیر تنظیم ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر احمد ملک کہتے ہیں کہ یہ درجہ فوری دے دیا جانا چاہیے۔

’اسے کوئی بھی نام دے کر جان چھڑائیں۔ اس کے بغیر بھی دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اور دوسرے راستوں سے تجارت ہو رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2.6 ارب ڈالر کی قانونی تجارت ہوتی ہے، لیکن غیر قانونی تجارت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس (ایم ایف این) سے اس کا خاتمہ ہوگا۔‘

بھارتی جماعت بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں آئین میں متنازع وادیِ کشمیر کی خصوصی خودمختار حیثیت کے خاتمے کی بات کی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے ساتھ تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

عزیز احمد خان کہتے ہیں کہ ’انتخابی منشور اور بات ہوتی ہے لیکن اقتدار کے تقاضے اور، اب دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ کشمیری اس کی بالکل اجازت نہیں دیں گے۔‘

حکمراں مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی تہمینہ دولتانہ کہتی ہیں کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے: ’ہم نے بات چیت کرنی ہے اور ملک کے حالات بہتر کرنا ہیں۔ بھارت کے لیے بھی یہ بہتر ہے۔‘

نریندر مودی کی بھاری اکثریت سے پاکستان میں امید بڑھی ہے کہ وہ بولڈ اقدامات کر سکیں گے، اور مسائل کے حل کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ شروع کیا جا سکے گا جہاں سے ٹوٹا تھا۔

اسی بارے میں