’چار سال میں ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کی جائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران شہباز شریف بھی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں کی قیادت کرتے رہے ہیں

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہ آئندہ چار سال میں ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائےگا اور نئے ڈیموں اور قدرتی وسائل کے استعمال سے بجلی کی پیداوار ضرورت سے بڑھ جائےگی۔

یہ بات مسلم لیگ ن کے رکن چوہدری شبیر ورک نے جمعے کو قومی اسمبلی میں ملک میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق ایک تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بتائی۔

مساوی طور پر لوڈشیڈنگ کے لیے کمیٹی

انھوں نے کہا کہ ’جب 1999 میں نواز شریف کی حکومت تھی تو اس وقت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ بجلی تھی، اور اضافی بجلی انڈیا کو فروخت کرنے کی باتیں ہو رہی تھی۔ اس کے بعد کسی بھی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی، جس کے باعث آج ملک بجلی کے بحران کا شکار ہے۔‘

چوہدری شبیر ورک نے کالاباغ ڈیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب ملک میں پن بجلی کے منصوبوں کی اجازت دی جاتی توآج ملک میں ضرورت سے زیادہ بجلی ہوتی۔

انھوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے ڈاکٹر ثمر مبارک کی سربراہی میں تھرکول منصوبے پر اربوں روپے خرچ کیے لیکن اسے قابل عمل نہ بنایا جا سکا۔ بقول شبیر ورک کے اگر حکومت ملک بھر میں رات آٹھ بجے کے بعد کاروباری مراکز کھولنے پر پابندی لگاتی ہے تو حزبِ اختلاف کی جانب سے سڑکوں پر احتجاج کو حمایت مل جاتی ہے۔

سابق وفاقی وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر نےکہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت اپنے وعدوں کے مطابق بجلی کے بحران پر قابو نہیں پا سکی، اور دیہی علاقوں میں آج بھی 16 سے 18 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے جو منصوبے شروع کیے ہیں اس سے بجلی اتنی مہنگی ہو جائے گی کہ بجلی کا استعمال غریب آدمی کی دسترس سے باہر ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 20 سے 22 ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے، جبکہ پیداوار 14 سے 16 ہزار میگاواٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت چھ سے آٹھ ہزار کا شارٹ فال چھوٹے صوبوں اوردیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کر کے پورا کر رہی ہے۔

نوید قمر نے پنجاب میں گیس اور کوئلے سے چلنے والے بجلی کے پلانٹس لگانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلانٹس ان علاقوں میں لگائے جائیں جہاں کوئلے اورگیس کے ذخائر موجود ہیں، اس طرح بجلی کی قمیتوں میں کمی ممکن ہے۔

جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نےالزام لگایا کہ مرکزی حکومت صوبہ پنجاب میں ٹیکسٹائل کارخانوں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے ملک کے دوسرے صوبوں میں مسلسل لوڈشیڈنگ کر رہی ہے۔ اس طرح لاہور میں تمام سی این جی سٹیشن ہفتہ بھر کھلے رہتے ہیں، جبکہ اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں ہفتے میں صرف دو یا تین دن تک سی این جی دستیاب ہوتی ہے، اور وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں ہر وقت دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔

قبائلی علاقے سےتعلق رکھنے والے رکن غالب خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے عوام کو 24 گھنٹوں میں سے صرف دوگھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جس سے وزیرستان میں کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور بہت سے لوگ مالی مشکلات کے باعث علاقہ چھوڑ کر افغانستان جا رہے ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن عبدالقہار خان ودان نے کہا کہ ’بلوچستان میں گذشتہ چار دنوں سے بجلی بند ہے اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت اپنے وعدے کے مطابق بلوچستان کے زمینداروں کو روزانہ آٹھ گھنٹے بجلی کی فراہمی میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی، جس کے باعث زراعت تباہ ہو رہی ہے، کیونکہ صوبے کی زراعت کا انحصار صرف بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر ہے۔‘

انھوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے شیداد کوٹ اور ڈیرہ غازی خان سے دو نئی ٹرانسمشن لائنیں مارچ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن یہ منصوبہ تاحال پایہِ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔

پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شگفتہ جمانی نے کہا کہ سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ سندھ کے دیہی علاقوں میں ہو رہی ہے۔

’پیپلز پارٹی کے سابقہ دورِ حکومت میں دونوں بھائی نواز اور شہباز لوڈشیڈنگ کے خلاف لوگوں کو بھڑکا کر سڑکوں پر لائے تھے اور دونوں نے اس وقت جو وعدے عوام سے کیے تھے ان پر خود آج تک عمل کر سکے۔‘

انھوں نے وفاقی حکومت اور وزیر مملکت برائے بجلی و پانی عابد شیرعلی کے بارے میں بعض ایسی مثالیں دیں کہ ڈپٹی اسپیکر نے ان کے الفاظ کو کارروائی سے حذف کروا دیا۔

شگفتہ جمانی کی تقریر جاری تھی کہ ڈپٹی سپیکر نے مائیک وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کے حوالے کر دیا۔

جب خواجہ آصف جواب دینے کے لیے بولنے لگے تو شفگتہ جمانی نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر مرتضٰی جاوید عباسی نےاسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔

اسی بارے میں