ظلم کا شکار خواتین چھپنے پر مجبور کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کیا ملزمان کمزور عدالتی نظام کا فاہدہ اٹھا ایک بار پھر بچ نکلنےمیں کامیاب ہو جائیں گے

صحافی ہونے کے ناطے ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ معاشرے کے ایک خاص طبقے میں پھیلی وحشت کا شکار کسی خاتون نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہو۔

بجائے اس کے کہ وہ ریاست سے انصاف مانگے اسے چار دیواری میں چھپنا پڑ رہا ہے۔ یہی نہیں، اس کے خاندان کے لیے بھی مانسہرہ میں رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ اس خاندان کے افراد کو پہلے بھی زلزلے کی وجہ سے آبائی گھر چھوڑنا پڑا تھا مگر اب کی بار وجہ بالکل مختلف تھی۔

دارالحکومت اسلام آباد سے قدم باہر رکھتے ہی ایسی دردناک کہانیاں ملتی ہیں جس سے احساس ہوتا ہے کہ عورت کے لیے معاشرے میں مشکلات کم نہیں ہوئی شاید بڑھی ہی ہے۔

اس کی واضح مثال وہ طالبہ ہے جسے چند روز مانسہرہ میں گینگ ریپ کیاگیا مگر جب اس سے ملنے مانسہرہ پہنچی تو نہ صرف اس نے بلکہ پورے خاندان نے ہی بات کرنے سے انکار کر دیا۔

ایک لمحے کو یہ خیال تو آیا کہ بات کیے بغیر کیسے چلی جاؤں مگر پھر یہ سوچ حاوی آ گئی کہ ایسا نہ ہو کہ مجھ سے بات کرنے سے اس خاندان کی مشکلات اور بڑھ جائیں۔

متاثرہ طالبہ کے گینگ ریپ کا منصوبہ پولیس کے مطابق ملزم نصیر نے بنایا جو مدرسے میں بچوں کو دینی تعلیم دیتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ طالبہ کی دوست اس کی شریک منصوبہ ساز تھی۔

زیرِ حراست تین ملزموں سے ملنے کی اجازت ملی تو یہ خیال دل سے نہیں جا رہا تھا کہ ان میں اتنی ہمت ہوگی کہ وہ بیان کر سکیں کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟

ان کی ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی آواز سنتے ہی کھڑی ہوئی تو وہ تینوں ایک خاتون صحافی کو دیکھ کر بظاہر شرمندہ دکھائی دیے یا پھر شاید انہوں نے مصنوعی احساسات سے اصل چہرے کو چھپا لیا اور سر جھکائے سوالوں کا جواب دیتے رہے۔

ان ملزمان کا فیصلہ تو عدالت نے ہی کرنا ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں تحقیقاتی نظام میں کمزوری کے باعث قانون توڑنے والوں کا بچ جانا عام بات بنتی جا رہی ہے۔

چھبیس سالہ نصیر کی شادی کو ایک سال ہوا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی برباد کر دی ہے‘۔ اس وقت بھی صرف اپنی زندگی کی پرواہ تھی اس متاثرہ لڑکی کی نہیں جسے جیتے جی قبر میں اتار دیا گیا ہے۔

فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے حدود آرڈیننس کے ذریعے ریپ کے مقدمات میں تین مسلمانوں کی گواہی لازم قرار دی تھی لیکن خواتین کے تحفظ کے آرڈیننس 2006 کے بعد اب تین گواہوں کی ضرورت نہیں ہے مگر ان علاقوں کی بیشتر خواتین کو اس سے آگاہی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کےمطابق متاثرہ طالبہ کےگینگ ریپ کا منصوبہ ملزم نصیر نے بنایا جو مدرسے میں بچوں کو دینی تعلیم دیتا تھا

سماجی کارکن فرزانہ باری کہتی ہیں کہ خواتین پر ظلم کوگھر کی بات کہنے والے معاشرے میں جب حدود آرڈیننس میں ریپ کے شواہد سے متعلق شقوں کی پشت پناہی کی جائے تو معاشرہ اتنا بے حس ہو جاتا ہے کہ ظلم گھر کی بات بن جاتا ہے۔

گزشتہ روز پھر راجن پور میں تین خواتین کو قتل کر دیا گیا ہے اور پولیس کو شبہ ہے کہ یہ کاروکاری کے نام پر کیا گیا ہے۔

شہروں میں انسانی حقوق کے لیےلڑنے والی آوازیں ان پسماندہ علاقوں میں جاتی ہی نہیں کہ کوئی امید ہو کہ کوئی نسل تو بہتر پاکستان دیکھ پائے گی۔

اسی بارے میں